''تعلیم کو کاروبار بنا دیا،کیوں نہ انتظامیہ سے نمٹ لیں،،

''تعلیم کو کاروبار بنا دیا،کیوں نہ انتظامیہ سے نمٹ لیں،،


اسلام آباد( 24نیوز )سپریم کورٹ میں نجی سکولوں کی انتظامیہ کی جانب سے توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے کہ نجی سکولوں سے بچے کتنی بیماریاں لے کر نکلتے ہیں،تعلیم کو کاروبار بنا دیا،کیوں نہ انتظامیہ سے نمٹ لیں۔

ہیڈ اسٹارٹ اور ایکول ڈی لومیئر اسکولوں کی جانب سے توہین عدالت کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی،،جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سکول انتظامیہ کی جرات کیسے ہوئی کہ سکول فیس کے فیصلے کو ڈریکونائن فیصلہ کہا،والدین کو انتظامیہ کی جانب سے لکھے خطوط توہین آمیز ہیں۔

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ آڈٹ کرالیتے ہیں یا اسکول بند کرکے نیشنلائزڈ کردیتے ہیں۔سرکار کو کہتے ہیں وہ ان اسکولوں کو تحویل میں لے،ہیڈاسٹارٹ سکول کے وکیل نے معافی مانگ لی،جس پرجسٹس گلزار نے کہاکہ تحریری معافی نامہ جمع کرائیں پھر دیکھیں گے۔

دوران سماعت جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ سکول انڈسٹری یا پیسہ بنانے کا شعبہ نہیں،نجی سکولوں والوں نے بچوں کے گھروں میں گھس کر زہر گھول دیا۔والدین سے ایسے سوال پوچھتے ہیں جن کا تصور نہیں کیا جاسکتا،والدین بچوں کو لے کر سیر کرانے کہاں جاتے ہیں یہ پوچھنے والے نجی سکول کون ہوتے ہیں۔عدالت نے دونوں سکولوں سے توہین آمیز زبان استعمال کرنے پرتحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کردی۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer