شہباز شریف کی جگہ فخرامام کو نیا چیئرمین پی اے سی بنائے جانے کا امکان

شہباز شریف کی جگہ فخرامام کو نیا چیئرمین پی اے سی بنائے جانے کا امکان


اسلام آباد(24نیوز) شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی کے عہدے سے ہٹانے کے لیئے حکومتی اتحادی اور آزاد ارکان اہمیت اختیار کرگئے۔ شہباز شریف کو ہٹانے کی صورت میں فخر امام کو نیا چئیرمین بنائے جانے کا امکان ہے۔ ن لیگ نےبھی قائمہ کمیٹیوں سے بائیکاٹ کی حکمت عملی تیارکرلی۔

 حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چئیرمین کےعہدے سے ہٹانے کا ممکنہ اقدام ، حکومتی اتحادی اوراپوزیشن اراکین ایک بار پھر اہمیت اختیار کرگئے۔

اپوزیشن شہبازشریف کے چیئرمین پی اے سی کے معاملے پرمتحد ہے، اتحادیوں کے بغیر شہبازشریف کو ہٹانا حکومت کے لیے ممکن نہیں،  پبلک اکاونٹس کمیٹی میں 30مبران ہیں، وزیرخزانہ ایکس آفیشیو ممبر ہونے کے باعث ووٹ ڈالنے کےاہل نہیں، باقی 29 میں سے حکومتی اتحاد کے 15جبکہ اپوزیشن اتحاد کے 14ووٹ ہیں۔

حکومتی اتحاد میں پی ٹی آئی کے11،ق لیگ،ایم کیو ایم،بی این پی مینگل کاایک ایک ووٹ ہے،ایک آزاد رکن علی نواز شاہ نے ووٹ دینے کا فیصلہ نہیں کیا،اپوزیشن جماعتوں میں ن لیگ کے7،پیپلزپارٹی 5،ایم ایم اے کے 2 ووٹ ہیں۔

ذرائع کےمطابق اخترمینگل 6 نکاتی فارمولے پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث حکومت سے ناراض ہیں،پارلیمانی طریقہ کارکےمطابق چیئرمین پی اے سی کوہٹانے کیلئے سادہ اکثریت درکارہوگی، ذرائع کا دعوی ہے کہ اگر شہباز شریف کو ہٹایاجاتا ہے تو فخر امام کو نیا چیئرمین بنایا جائے گا،اسی وجہ سے کشمیر کمیٹی کے قیام کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب چیئرمین پی اے سی کو ہٹانے کی صورت میں ن لیگ نے تمام قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ پر غورشروع کردیاہے، بائیکاٹ کی تجویزاپوزیشن جماعتوں کےسربراہان کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔