ہندومت میں کٹاس راج مندر کی اہمیت

ہندومت میں کٹاس راج مندر کی اہمیت


چکوال(24 نیوز) ہندو دیومالائی کتابوں کے مطابق یہ شیو کے آنسوؤں کی جھڑی سے بننے والا تالاب کئی ہزار سال پراناہے اور یہ بھی کہاجاتا ہے کہ شیوم لنگم کی پوجا یہاں ہی شروع ہوئی تھی۔ یہ ضلع چکوال کے نزدیک چوا سیدن شاہ کے قریب واقع ہے۔

چکوال کاعلاقہ ہزاروں لاکھوں سال پہلے وجود میں آنے والی سطح مرتفع پوٹھوہار کے وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے ماہرین ارضیات،آثار قدیمہ کے ماہرین اور مورخین کے لیے دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ ہندو مذہب کے ماننے والوں کے لیے بھی چکوال بہت اہمیت رکھتا ہے۔اس علاقے میں وہ کٹاس کے مندر واقع ہیں جہاں ہندو مذہب کے پیرو کاروں نے شیوم لینگم کی پوجا یہاں ہی شروع کی تھی۔ چواسیدن شاہ کے قصبے کے قریب ہی پہاڑی کے دامن میں یہ مندر واقع ہیں۔

کٹاس کے معنی آنسووں کی لڑی ہیں۔ ہندو دیومالائی کہانیوں کے مطاق مہاراج شیواپنی پتنی کےغم میں اس قدر روئے کہ ان کے آنسووں سے تالاب بن گیا۔ یہ تالاب تقریبا تیس فٹ گہرا ہے۔

انہی ہندو روایات کے مطابق شیو کے آنسووں سے منسوب ایک تالاب کٹاس اور جب کہ دوسرا تالاب پشکااجمیرمیں وجود میں آگیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق کورووں کے ساتھ جنگ میں شکست میں پانڈووں نے بارہ سال یہاں گزارے تھے اوراس دوران مندربھی تعمیر کروائے ۔ یہ عبادت خانے دو دو کے جوڑے میں ہیں اور تالاب کے گرد واقع ہیں۔ یہاں رنجیت سنگھ کے ایک جرنیل ہری سنگھ نلوہ کی حویلی بھی واقع ہے۔ یہاں عسکری نوعیت کی تعمیرات بھی کافی تعداد میں ہیں۔

یہ مندرزمانہ قدیم سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہے ہیں اور یہاں کی غاریں بھی کئی بھید اورکہانیاں اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ یہ بات کافی حد تک مصدقہ ہے کہ کٹاس کے انہی مندروں کے پاس ایک بہت بڑی یونیورسٹی تھی جس میں طلبا حصول علم کے لیے دور دراز سے آتے تھے ۔ اسلامی دنیا کے عظیم سیاح البیرونی نے دسویں صدی عیسوی میں یہاں قیام کیا اوراپنی تصنیف کتاب الہند مکمل کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بدھ مت کے پیروکاروں کی عبادتگاہ کی موجودگی بھی بدھ مت کے ماننے والوں کے یہاں قیام کی عکاسی کرتی ہے۔ ہندومت کے ماننے والے اور سیاح یہاں دنیا بھر سے یاترا کرتے ہیں اوراس علاقے کی تاریخ اورقدیم ثقافت سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے یہ تالاب مختلف وجوہ کی بنا پرسوکھ گیا تھا مگربعد میں متعلقہ محکموں نے اس کی صفائی کرواکر اسے بحال کردیا ہے۔