میرے میو ہسپتال کے دورے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا: چیف جسٹس

میرے میو ہسپتال کے دورے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا: چیف جسٹس


اسلام آباد(24نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پی ایم ڈی سی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس، میرے میو ہسپتال کے دورے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا،کسی کے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا، جو اختیار آئین نے دیا وہی استعمال کیا، حکومت نے میڈیکل کالجز نہیں بنائے اور اس خلاء کو نجی میڈیکل کالجز نے پر کیا، یہ خلاء بھی جان بوجھ کر پیدا کیا گیا ہو، عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے پی ایم ڈی سی کونسل کے وجود اور ریگولیشن کیخلاف کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نجی میڈیکل کالجز کو ختم نہیں کرنا چاہتے لیکن ان میڈیکل کالجز کو کاروباری ادارہ نہیں بننا چاہیے۔

دوران سماعت نجی میڈیکل کالجز کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے 2012 کی پالیسی کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے کہا سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے سے محروم رہ جانے والے طلباء نجی کالجوں میں داخلہ لیتے ہیں۔ہم 4 ممالک سے ٹیکنالوجی اور معیار سے پیچھے ہیں مگر تعداد میں برابر ہیں۔پاکستان کو اس وقت 5لاکھ ڈاکٹرز درکار ہیں۔پاکستان میں سپیشلسٹ ڈاکٹر کی تعداد 47 ہزار سے زائد ہے جن میں سے 25 ہزار ڈاکٹرز بیرون ملک ملازمت کر رہے ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے کہا ہمیں 5 لاکھ ڈاکٹرز درکار ہیں عطائی نہیں۔ایسے ماہر سرجن درکار ہیں جو آپریشن کریں۔ایسے ماہرین نہیں جو داتا دربار سے نشئی اٹھا کر لے جائیں اور اسکا گردہ نکال کر عربی کو بیچ دیں۔