یہاں بیٹھ کےبلوچستان کی حکومت گراسکتاہوں توپنجاب کوبھی خطرہ ہے: آصف زرداری

یہاں بیٹھ کےبلوچستان کی حکومت گراسکتاہوں توپنجاب کوبھی خطرہ ہے: آصف زرداری


نوابشاہ (24 نیوز) پاکستان کے سابق صدر و پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ نہ چلنا حماقت ہے، پوری دنیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر طریقے سے چلانا چاہیے۔ آئندہ انتخابات کے بعد نواز شریف اپوزیشن میں ہونگے۔

زرداری ہاؤس نوابشاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ اگر یہاں بیٹھ کر بلوچستان حکومت گراسکتا ہوں تو پنجاب حکومت کو بھی خطرہ ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے کبھی بھی کسی غیر قانونی عمل کی حمایت نہیں کی ہے۔ انہوں نے روہڑی کینال کو بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 26 لاکھ ایکڑ زمین روہڑی کینال کے ذریعے آباد ہوتی ہے، نیب نے جو درخواست دی وہ جھوٹ پر مبنی تھی، کسی کہ کہنے پر اومنی گروپ یا دیگر ملز میری نہیں ہوجاتیں، شیئرز بھی چیک کیے گئے لیکن وہ میرے ثابت نہیں ہوئے۔

سندھ حکومت گنے پر سبسڈی دے رہی ہے، مجھے عام انتخابات اور سینیٹ کے انتخابات ہوتے نظر آرہے ہیں۔ حکومت میں ہم آئی جی بھی نہیں ہٹاسکتے، ایک ہٹایا جاتا ہے تو وہ سیکیورٹی ایڈوائزر بن جاتا ہے۔ ہمارے زمانے میں تیل تین گنا مہنگا تھا، وفاقی حکومت عوام کو ریلیف نہیں دے رہی، اگر پارٹی نے اجازت دی تو نوابشاہ سے ہی الیکشن لڑوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قصور میں معصوم زینب کے قتل کیس میں پنجاب حکومت کی کارکردگی سامنے آگئی ہے۔ پنجاب حکومت اشتہارات چلاتی ہے کہ ان جیسی پولیس کہیں پر بھی نہیں سات کیسز میں ایک ہی ڈی این اے ملنے کے باوجود ملزمان کیسے ہاتھ نہیں آتے، ہم ایک سو افراد کے قتل پر طاہر القادری کے ساتھ ہیں۔ صرف چودہ افراد کی بات نہیں ماڈل ٹاؤن سانحے میں جو لوگ زخمی ہوئے تھے، انہیں انصاف کی فراہمی کے لئے ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نہ جانے سندھ سے کس قسم کی دشمنی کی جارہی ہے کہ پانی بند کرنے کے فیصلے بھی عدالتیں کر رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الطاف حسین آج کل ٹی وی شو پر نہیں سوشل میڈیا پر بیٹھتا ہے اور میری عمر نہیں کہ میں اب سوشل میڈیا پر بیٹھوں۔ ہوسکتا ہے کہ پی ایس پی اور ایم کیو ایم ایک ساتھ الیکشن لڑیں۔ پنجاب میں چھوٹے میاں صاحب کی حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے۔