"زیادتی واقعات میں ملوث صرف 2 فیصد ملزمان کو سزائیں ملتی ہیں"


کراچی (24 نیوز) پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق سندھ کے وائس چیئرمین اسد بٹ نے کہا ہے کہ ملک میں زیادتی کا شکار ہونے والوں کی تعداد بتدریج بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے گھناؤنے اور شرمناک واقعات میں ملوث افراد کو سزا کا تناسب محض 2 فیصد ہے۔

 پنجاب کے شہر قصور میں سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل پر انسانی حقوق کا علمبردار ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سندھ کے نائب چئیرمین اسد بٹ نے کہا کہ زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد بتدریج بڑھتی جارہی ہے۔ مجرموں کو سزائیں دی جاتیں تو افسوسناک واقعات نہ ہوتے۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر عظمیٰ علی نے کہا کہ زیادتی جیسے جرائم میں ملوث افراد ذہنی انتشار اور اشتعال کا شکار ہوتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سات سالہ زینب کے لیے افسوس، مزمتیں، احتجاج،مظاہرے اورسیاست سمیت سب کچھ ہو رہا ہے مگر انصاف کب ملتا ہے؟ یہ سچے اور مثبت اقدامات پر منحصر ہے۔