فوج والے ہمارے دائر ہ اختیار سے باہر نہیں: چیف جسٹس، اہم فیصلہ سنادیا

فوج والے ہمارے دائر ہ اختیار سے باہر نہیں: چیف جسٹس، اہم فیصلہ سنادیا


اسلام آباد( 24نیوز )آرمی والے یہ نہ سمجھیں دائر ہ اختیار سے باہر ہیں،اہم فیصلہ سنادیا،سیکرٹری دفاع کو طلب کرلیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی،سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے نے فائل بند کرنے کی استدعا کی ہے، لیکن ہم کیسے عدالتی حکم کو ختم کر دیں،اصغر خان نے اتنی بڑی کوشش کی تھی لیکن جب عملدرآمد کا وقت آیا تو ایف آئی اے نے ہاتھ کھڑے کر دیئے، ہم اصغر خان کی کوشش رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور اس کیس کی مزید تحقیقات کرائیں گے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کیسے عدالتی حکم کو اگر ایف آئی اے کے پاس اختیارات نہیں تو دوسرے ادارے سے تحقیقات کرالیتے ہیں،ایسا نہ سمجھیں کہ فوج والے عدالتی دائرہ اختیار سے باہر ہیں ،ہمیں نہیں پتہ ملٹری والے کیا کر رہے ہیں ، کیوں نہ ان سے بھی رپورٹ طلب کر لیں ،ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ سب کچھ ہمارے اختیار میں ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ہم ایف آئی اے سے جواب طلب کریں گے جبکہ کابینہ سے بھی جواب مانگیں گے کیونکہ کچھ افراد کے مقدمات کابینہ کو دیئے گئے تھے،ساتھ ہی چیف جسٹس نے اصغر خان کے اہلخانہ کے وکیل ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ آپ عدالت کی معاونت کریں کہ کیس کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔

ایک فیصلہ آیا اور اب عملدرآمد کے وقت ایسا ہو رہا ہے، کچھ افراد کو اس معاملے سے علیحدہ کرنے کی تجویز تھی،جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ 'ایسا نہیں ہونا چاہیے جبکہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ہاں میں نے رقم تقسیم کی،اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'اس کے بعد پھر کیا رہ جاتا ہے؟چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ کیس بند کرنے کے معاملے میں اصغر خان فیملی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اگر ایف آئی اے کے پاس اختیارات نہیں تو دوسرے ادارے سے تحقیقات کرالیتے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جب فیصلہ آیا تو میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے ملا اور کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ کیا کہ اب عدالت کچھ نہ کرے تو یہی کافی ہے،سلمان اکرم راجا نے اس موقع پر کہا کہ اصغر خان اور آسیہ بی بی کیس کے دونوں فیصلے تاریخ ساز ہیں،سماعت کے آخر میں عدالت عظمیٰ نے ایف آئی اے کی طرف سے اخذ کیے گئے نتائج اور وجوہات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اصغر خان کے ورثاءکی درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب کر لیا،ساتھ ہی سپریم کورٹ نے سیکریٹری دفاع کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 25 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی۔

یاد رہے 1990کی انتخابی مہم کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس انتخابی مہم کے دوران اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل جماعتوں اور سیاسی رہنمائوں میں پیسے تقسیم کیے گئے۔

واضح رہے کہ مذکورہ کیس کی 29 دسمبر 2018 کو ہونے والی سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سپریم کورٹ سے اصغر خان کیس کی فائل بند کرنے کی سفارش کی تھی، تاہم گذشتہ روز مرحوم اصغر خان کے لواحقین نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے درخواست کی کہ یہ کیس بند نہیں ہونا چاہیے۔