کون ذہنی تناؤ کا شکار ہے اور کون نہیں؟ سوشل میڈیا حرکات سے پتہ چلائیں

کون ذہنی تناؤ کا شکار ہے اور کون نہیں؟ سوشل میڈیا حرکات سے پتہ چلائیں


لاہور ( 24 نیوز ) کون ذہنی تناؤ کا شکار ہے اور کون نہیں،  نئی تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا پر کسی بھی انفرادی شخص کی حرکات سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر نوجوان اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات کو تو شیئر کرتے ہیں لیکن زندگی کے منفی پہلوؤں کو چھپاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا پر تین ایسی وجوہات ہیں جن سے کسی شخص کے شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، ایسے لوگ جو سوشل میڈیا پر اپنے سے بہتر لوگوں کے ساتھ خود کا موازنہ کرتے ہیں ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں جبکہ اگر انہیں کسی تصویر کے ساتھ ٹیگ کیا جائے تو اس پر بھی ناراضگی کا اظہار کردیتے ہیں،  تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ ایسے لوگوں کی تصاویر میں دوست اور احباب کم ہی نظرآتے ہیں۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی نے اپنی تحقیق میں اسے ’’ڈک سینڈروم‘‘ قرار دیا ہے، جیسے ایک بطخ نہر کوپار کرنے کیلئے بظاہر تو بڑے آرام سے تیرتے ہوئے جاتی ہے لیکن نیچے پانی میں اس کے پاؤں مسلسل حرکت میں رہتے ہیں۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایسے لوگ جو سوشل میڈیاپر دوسرے لوگوں کے ساتھ بنائی گئیں تصاویر شیئر کرتے ہیں وہ شدید ذہنی تناؤ کے شکار افراد کی اس کیٹگری میں نہیں آتے۔

Malik Sultan Awan

Content Writer