بھارت، سیاست اور پنڈت

بھارت، سیاست اور پنڈت


آئی سی سی ورلڈ کپ کا بگل بجایا گیا، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر بھارتی کپتان ویرات کوہلی کے سر پر ورلڈ کپ کا تاج سجایاتھا۔ اس تصویر کے سامنے آتے ہی کرکٹ مبصرین نے اسے کرکٹ کو سیاست سے تشبیح دی اور آئی سی سی کے اس اقدام کو جانبداری قرار دیا۔یہی نے سابق بھارتی کرکٹر اور بین الاقوامی کرکٹرزنے اس فعل پر آئی سی سی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے کرکٹ کے لئے نقصان دہ قرار دیا۔لیگ میچز میں بھارتی ٹیم کی کارکردگی شاندار رہی اور آئی سی سی کی ہارٹ فیورٹ کی پیشنگوئی بظاہر سچ ہوتی دکھائی دینے لگی تھی۔

لیکن اولڈ ٹریفورڈ کے تاریخی میدان میں بھارت کی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست نے بھارت کے خوابوں کو چکنا چور کردیا۔جہاں ابتدائی تین کھلاڑی ایک ایک رنز بنا کر پویلین کو لوٹ گئے وہیں دھونی کا رن آئوٹ بھی میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ ایک آسان ہدف، بیٹنگ کنڈیشنز اور موافق حالات کے باوجود بھارت کی کارکردگی انتہائی تکلیف دہ تھی۔

بھارتی ٹیم کو بنیادی طور پر جہاں اندرونی سیاست نے تباہ کیا وہیں قسمت نے بھی ان کا کچھ زیادہ ساتھ نہیں دیا ۔ 2014ٹی ٹونٹی فائنل میں بھارتی ٹیم کو ٹرافی کے بغیر گھر لوٹنا پڑا،2015میں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے ہی بھارتی ٹیم کو ٹکٹ کٹوانا پڑی، اسی طرح 2016میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے ہی سورماؤں کو شکست کھانا پڑی۔2017میں چیمپئنز ٹرافی فائنل تک پہنچ کر بھی بھارتی ٹیم کی قسمت بدل نہ سکی اور اب 2019میں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے ہی کوہلی الیون کو ایک بار پھر خالی ہاتھ گھر لوٹنا پڑا۔

ورلڈ کپ کے آخری لیگ میچ میں جب آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کو شکست دی تواس وقت سوا ارب بھارتی کرکٹ شائقین اور میڈیا نے خوشیوں کے شادیانے بجائے کہ ان کا نیوزی لینڈ کے ساتھ ٹاکرا ہوگا۔ اس وقت کسی نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ یہ ٹاکرا ان کے لئےنیک شگون ثابت نہیں ہوسکے گا۔

بھارتی کرکٹ ٹیم لیگ میچز میں واحد میچ انگلینڈ سے ہاری تھی، کرکٹ پنڈتوں کے مطابق کوہلی الیون یہ میچ جان بوجھ کر ہاری۔ جس کی واحد وجہ ورلڈ کپ میں پاکستان کا راستہ روکنا تھا۔وہ کہتے ہیں ناں دوسروں کے لئے گڑھا کھودنے سے قبل یاد رکھیں آپ بھی اس گڑھے میں گر سکتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ بھارتی ٹیم کیساتھ بھی ہوا۔

تمام باتیں ، دلائل، میچ کے فیصلے اور سیاست ایک جانب لیکن کھیل کو کھیل سمجھ کر ہی کھیلنا چاہیے ۔ کھیل کو سیاست ، مفادات اور نفرت کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیےکیونکہ نفرتیں کبھی اچھا پھل نہیں دیتیں۔ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا جبکہ مفادات ہمیشہ کئی سروں کی فصلیں کاٹنے کے بعد حاصل کئے جاتے ہیں اس کیلئے اخلاقیات کو پائوں تلے روندنا پڑتا ہے۔

قصہ مختصر! بھارتی ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران جس کھیل کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ جیسے پاکستانی ٹیم نے آخری میچز ایک شان کیساتھ کھیلے اور بہترین جیت ان کا مقدر بنی، پاکستانی شائقین نے اپنے کھلاڑیوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ اب بھارتی شائقین کو بھی اپنی ٹیم کا شایان شان استقبال کرنا چاہیے۔ کیوں کہ کھیل میں ہار اور جیت کے ذریعے فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ فیصلے دل سے نہیں بلکہ دماغ اور اعصاب کیساتھ ہوتے ہیں۔ جو ٹیم اپنی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اپنے اعصاب پر قابو رکھتی ہے، وہی کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے۔