حمزہ شہباز اور عائشہ احد کی ”جنگ“ختم،چیف جسٹس نے صلح کرادی


لاہور(24نیور)سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور ان کے بیوی ہونے کی دعویدار عائشہ احد کے درمیان عرصہ دراز سے جاری ”جنگ“ختم ہوگئی ہے،دونوں میں صلح ہوگئی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ فریقین میں معاملات طے پا گئے ہیں۔
کیس کی جب سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے حمزہ شہباز اور عائشہ احد کےکیس میں ثالث بننے کی پیشکش کی، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں عائشہ احد پر مبینہ تشدد کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز اور ان کی اہلیہ ہونے کی دعویدار عائشہ احد عدالت میں پیش ہوئے۔
عائشہ احد نے عدالت میں بتایا کہ میری حمزہ شہباز سے 2010 میں شادی ہوئی، اس موقع پر حمزہ شہباز نے خاتون کے دعوے کو مسترد کردیا،دوران سماعت چیف جسٹس نے ثالث بننے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ دونوں کہیں میں تو میں ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہوں اور حمزہ آپ کہتے ہیں کہ شادی نہیں ہوئی تو میں جے آئی ٹی تشکیل دے دیتا ہوں، چیف جسٹس نے عائشہ احد اور حمزہ شہباز کو چیمبر میں بلا لیا۔
سماعت کے دوران حمزہ شہباز کے وکیل زاہد بخاری نے دلائل دینے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس نے انہیں روک دیا اور کہا کہ میں دونوں متاثرہ فریقین کا موقف سننا چاہتا ہوں۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ معاملہ بیٹھ کر حل نہیں کرنا تو پنجاب کے باہر سے جے آئی ٹی بنا دیتا ہوں، آپ پنجاب کے با اثر لوگ رہے ہیں اس لیے انویسٹی گیشن باہر کے لوگوں سے کرائی جائے گی، انویسٹی گیشن میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے لوگ بھی شامل ہوں گے،اس موقع پر بینچ کے دیگر ججز نے حمزہ شہباز اور عائشہ احد کو مشورہ دیا کہ چیف جسٹس کی بات مانیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جمائمہ ایک بار پھر عمران کو بچانے کیلئے میدان میں آگئیں

چیف جسٹس نے حمزہ شہباز سے مکالمہ کیا کہ اگر آپ طلاق دینا چاہتے ہیں تو یہ آپ کا شرعی حق ہے،اگر آپ نے شادی نہیں کی ہے تو بھی آپ کو پورا حق ہے، اگر نکاح نامہ رجسٹرڈ نہیں بھی ہوا تو نکاح 2 گواہان کی موجودگی میں ہوجاتا ہے، غیر کسی کو سنے کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔
مصالحت کے بعد عائشہ احد نے حمزہ شہباز کیخلاف تمام مقدمات واپس لے لیے ہیں۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں