چیف جسٹس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے احسن اقبال عدلیہ پر چلا اٹھے


اسلام آباد (24 نیوز) چیف جسٹس نے پنجا ب میں دس سال سے کیے جانے والے گڈگورننس کے دعوؤں کا پول کھولا تو ن لیگی رہنما برامان گئے۔ وزیرداخلہ احسن اقبال نے سوال اٹھا دیا کہ کیا عدلیہ ایک سیاسی جماعت ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کا سیاست کی نذر ہونا سب کا مشترکہ نقصان ہوگا۔

چیف جسٹس نے تعمیروترقی اور گڈگورننس کے دعوے کرنے والوں سے ایک بنیادی سوال کیا، جواب دینے کے بجائے عدلیہ پرچیخنے چلانے لگے۔

ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ دس سالہ دورحکومت میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے پنجا ب میں کچھ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب: ن لیگ کی سر جوڑ کر سر توڑ کوششیں

چیف جسٹس کے سوال پرچیف سیکرٹری پنجاب سے کوئی جواب نہ بن پڑا البتہ مرکزی وزیرداخلہ احسن اقبال نے ٹویٹر پر ترکی بہ ترکی جواب دینے کی کوشش کی۔

احسن اقبال نے لکھا کہ عزت مآب چیف جسٹس صاحب پنجاب کے لوگ آئندہ عام انتخابات میں حکومت کی کارکردگی کو جانچ لیں گے۔ آپ الیکشن سے پہلے اس طرح کا بیان کیسے دے سکتے ہیں۔ کیا عدلیہ ایک سیاسی جماعت ہے؟ عمران خان اورآصف زرداری ایسے بیانات دے سکتے ہیں۔ احسن اقبال نے مزید لکھا کہ عدلیہ کا سیاست کی نذرہونا سب کا مشترکہ نقصان ہوگا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عام آدمی کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ن لیگ کے رہنماؤں کو چیف جسٹس کے سوالات پر اپنی کارکردگی بتانی چاہیے۔ ان سوالوں پرچیخنا چلانا نہیں چاہیے۔

ضرور پڑھئے:چیئرمین سینیٹ کیلئے عبدالقدوس بزنجو نے امیدواروں کا اعلان کر دیا 

چیف جسٹس کے پنجاب حکومت سے متعلق ریمارکس پر مریم نواز نے ٹویٹ کیا ہے۔ انہوں نے دو تصویریں لگا کر چیف جسٹس سے سوال کیا ہے کہ آپ خود ہی غور کر لیں۔ ایک جانب آپ کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ دوسری جانب آپ کہتے ہیں سب سے اچھا کام پنجاب میں نظر آتا ہے۔

ایک اور ٹویٹ پیغام میں سابق وزیر اعظم کی صاحب زادی نے کہا کہ لاڈلے صاحب سے کہیں بس چند دن انتظارکرلیں۔ انشااللہ ریڈلے کی طرح واجد ضیا بھی خود کاغذات کی حقیقت بتائیں گے۔