سیالکوٹ میں خواجہ آصف کے چہرے پر دل جلے نے سیاہی پھینک دی


سیالکوٹ (24نیوز) پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی بڑی سیاسی شخصیت پر جوتا یا سیاہی نہ پھینکی نا گئی ہو،  ملک کی سیاسی صورتحال نہایت نازک گھڑی سے گزر رہی ہے ، دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کا برا وقت شروع ہو چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق  وزیرخارجہ خواجہ آصف سیالکوٹ میں پہنچے تھےورکرز کنونشن سے خطاب کرنے، مگر وہ انہتائی ہتک آمیزسلوک کا نشانہ بن گئے، جیسے ہی خطاب کرنے کے لئے اسٹیج پرپہنچے توایک نوجوان نے ان پرسیاہی پھینک دی ، جو انکے چہرے اور سر کے بالوں پر جا گری۔

قریب کھڑے کارکنوں نے نوجوان کو دبوچ لیا اورخوب دھلائی کےبعد پولیس کے حوالے کردیا، خواجہ آصف نے سیاہی گرنے کے باوجود خطاب ختم نہ کیا بلکہ منہ دھو کر دوبارہ ڈائس پر ہی موجود رہے۔ ان کا کہنا تھاکہ مخالفین نے پیسے دے کر یہ سب کچھ کرایا۔

صبح نوٹوں سے بول بالا اور رات کو سیاہی سے منہ کالا، سیالکوٹ میں خواجہ آصف کے چہرے پر دل جلے نے سیاہی پھینک کر منہ کالا کر دیا، نوجوان کو دھلائی کے بعد چھوڑدیاگیا، ٹوئنٹی فورنیوز نے نوجوان پرتشدد کی فوٹیج حاصل کرلی۔

 ٹوئنٹی فور نیوز نے نوجوان پر تشدد کی فوٹیج حاصل کر لی جس میں نوجوان کو سیاہی پھینکتے اور نعرے لگاتے دیکھا جاسکتا ہے نوجوان فیض الرسول کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں، وہ مظفر پورکا رہائشی ہے۔ذرائع کے مطابق نوجوان نے ختم نبوت قانون میں ترمیم کی کوشش پر سیاہی پھینکی۔

اس سے قبل کل صبح وزیرخارجہ جب سیالکوٹ پہنچے تھے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور  نوٹ نچھاورکئے گئےتھے۔

خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے والے شخص کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ تحریک لبیک کا کارکن ہے اور اس نے ختم نبوت ﷺ حلف نامے میں تبدیلی کے معاملے پر ان پر سیاہی پھینکی ہے۔ وزیر خارجہ پر سیاہی پھینکنے والے نوجوان کا نام فیض الرسول بتایا جاتا ہے جو کہ سیالکوٹ کے قریب سرحدی علاقے مظفر پور کا رہائشی ہے۔