اسلام آباد ہائیکورٹ نے کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنیکی ڈیڈلائن دیدی


اسلام آباد(24نیوز)  ہائی کورٹ نے امریکی سفارت کار کی گاڑی سے نوجوان عتیق کی ہلاکت کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ وزارت داخلہ امریکی سفیر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے بارے میں 2 ہفتے میں فیصلہ کرے.

 تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کےجسٹس عامر فاروق نے امریکی سفارت کار کی گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق عتیق کے والد کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سنا دیا۔وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ امریکی سفیر کرنل جوزف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے بارے میں دو ہفتے میں فیصلہ کرے، کرنل جوزف کو مکمل استثناء حاصل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا امریکہ کو کرارا جواب، امریکی سفارتکاروں پر نئی پابندیوں کا اعلان
 
تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت نے وزارت داخلہ کو کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے ہدایت جاری کر دی۔عدالت نے حکم دیا کہ وزارت داخلہ امریکی سفیر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے بارے میں 2 ہفتے میں فیصلہ کرے۔اس سے قبل سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے بارے میں ایک کمیٹی بنی ہوئی ہے جس پر عدالت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کمیٹی نہ کھیلیں اس طرح تو معاملہ کبھی بھی حل نہیں ہو گا۔

پڑھنا نہ بھولیں:امریکی ڈیفنس اتاشی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے پولیس کا وزارت داخلہ کو خط
  
 جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایگزیکٹیو کا کام بھی اب عدلیہ کو ہی کرنا پڑے گا۔عتیق کی ہلاکت کا واقعہ سات اپریل کو پیش آیا تھا جب دارالحکومت میں دامنِ کوہ چوک پر امریکی سفارت خانے کے فوجی اتاشی کرنل جوزف نے اشارہ توڑ کر ایک پاکستانی طالب علم کی موٹرسائیکل کو ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں وہ طالب علم ہلاک اور اس کا ساتھی شدید زخمی ہو گیا تھا۔واضع رہے کہ حکومت پاکستان نے کرنل جوزف کا نام بلیک لسٹ کیا ہوا ہے.