خواجہ سراﺅں پر زمین تنگ،ایک تشدد کے واقعہ میں 2زخمی


اوکاڑہ( 24نیوز )خواجہ سراﺅں کی زندگی اجیرن بن گئی،کمیونٹی پر تشدد،اغواءاور قتل کے واقعات بڑھ گئے۔
تفصیلات کے مطابق کچھ عرصہ قبل خواجہ سرا شمع کو 9 افراد نے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا،شمع پشاور میں خواجہ سراوں کے حقوق کے لئے کام کرنی والی تنظیم ٹرانس ایکشن کمیٹی کی ممبر ہیں، خواجہ سرا شمع نے جنسی تشدد کے واقع کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ میں اپنی کمیونٹی کے حقوق کے لئے آواز بلند کروں، مجھے پہلے بھی دھمکیاں ملتی رہی ہیں،مگر خواجہ سرا آرزو پر ہونے والے تشدد اور سنی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے خلاف احتجاج میں شرکت کے بعد مجھے عتاب کا نشانہ بنایا گیا۔


یاد رہے مانسہرہ میں پیسوں کے تنازع پر شادی کی تقریب میں بلائے گئے خواجہ سرا کردیا گیا تھا،اسی طرح پشاور کے علاقہ باڑہ گیٹ میں نازو کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا،حافظ آباد میں شادی کی تقریب میں ڈانس کے دوران چھیڑ خانی سے منع کرنے پر بھی خواجہ سر کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ 2015ءسے گزشتہ سال تک خیبرپختونخوا میں 55خواجہ سراﺅں کو قتل کیاگیا،کسی ایک ملزم کو سزانہیں ہوئی اسلئے خواجہ سراوں کو باآسانی قتل کیاجارہاہے۔
واضح رہے کہ ایوان بالا میں انسانی حقوق کی کمیٹی نے خواجہ سرا کمیونٹی کے تحفظ کا ایک بھی پاس کیا ہے لیکن ابھی تک یہ کمیونٹی ابھی تک عدم تحفظ کا شکار ہے۔
اوکاڑہ میں شادی کی تقریب سے واپسی پر خواجہ سراو¿ں کی گاڑی روک کر خواجہ سرا کو اغواءکی کوشش کی، خواجہ سراوں کے مطابق ناکامی پر 4 ملزمان نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں ایک خواجہ سراءکو فائر مار کر زخمی کر دیا جبکہ دوسرے ساتھی کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے رہے
خواجہ سراءکے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ملزمان نے شراب پی رکھی تھی زخمی خواجہ سرا کو ڈسٹرکٹ ہسپتال اوکاڑہ منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس نے موقع پر پہنچ گئی اور واقعہ کی انکوائری شروع کر دی۔