"یہ واحد حکومت ہے جو مولانا فضل الرحمان کے بغیر چل رہی ہے"


لاہور(24نیوز) وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ  مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سیاست کی جارہی ہے، مذہب کے نام پر سیاست نہیں کرنی چاہئے، یہ لڑائی نظریات کی لڑائی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات فوادچودھری نے لاہور میں سیمینار سے خطاب کرتے ہو ئے کہنا تھا کہ  مذہب کالبادہ اوڑھ کر سیاست کی جارہی ہے، مذہب کے نام پر سیاست نہیں کرنی چاہئے، ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار پاکستان میں سرکاری سطح پر ربیع الاول منایا جارہاہے،جس کو نبی ﷺ سے عشق نہیں وہ مومن ہی نہیں،عمران خان ایک سچے عاشق رسول ہیں، وزیراعظم خود رحمت اللعالمین ﷺکانفرنس کا افتتاح کریں گے۔

فوادچودھری کا سیمینار سے خطاب کرتےہو ئے کہنا تھا کہ امریکا نےافغانستان پر حملہ پاکستان سےپوچھ کر تو نہیں کیا،  اسامہ بن لادن نے نائن الیون کیا تو ہم سے پوچھا کر تو نہیں کیا تھا کہ نیویارک میں بم مارنا ہے، افغانستان میں ہونے والے واقعات کے اثرات ہمیں برداشت کرناپڑے اور اب بھی ان حالات سے گزر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان کو مدینہ کی ریاست  جیسابنانا چاہتے ہیں،  وزیراعظم عمران خان کا کو ئی ذاتی ایجنڈا نہیں  جبکہ اپوزیشن کا سارا ایجنڈا ذاتی ہے،  کشمیر میں کتنے مظالم ہو ئے مولانا فضل الرحمان نے کبھی کو ئی بات نہیں کی،یہ واحد حکومت ہے جو مولانا فضل الرحمان کے بغیر چل رہی ہے، وہ جب تک حکومت میں ہوں ان کے لئے سب کچھ ٹھیک ہو تا ہے،  لیکن جونہی یہ حکومت سے باہر ہوتے ہیں ان کو اپنی جان کے لالے پڑ ھ جاتے ہیں، 1988 کے بعد اللہ کا شکر ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ہماری حکومت میں مولانا فصل الرحمان نہیں ہے،  اصولی طورپرپی اےسی کی سربراہی تحریک انصاف کوملنی چاہیئے۔

فوادچودھری کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت بغیر ڈیزل کے بہت اچھی چل رہی ہے، ہمارا بحران سیاسی نہیں فطری ہے، عمران خان جو بھی فیصلہ کرتے ہیں ساری پارٹی اس پر متفق ہوتی ہے ،چھوٹے موٹے اختلافات ہو جا تے ہیں پی ٹی آئی میں کو ئی اختلاف نہیں ، ریاست کے برابری کے حقوق دینے تک مسئلہ حل نہیں ہوگا، پاکستان کے 84 فیصد قرضہ کا پیپلز پارٹی اور ن لیگ ذمہ دار ہیں ،  ہمیں قرض واپس لینا آتا ہے  جمہوری حکومت کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتے،ہمارا سب سے بڑا امتحان ادائیگیوں کا مسئلہ تھا جو حل ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچی آبادیوں کو سہولیات کی فراہمی بھی عمران خان نے اپنے ذمہ لے لی ہے ملکی وقار بحال کرنا ہی ہماری حکومت کا بیانیہ ہے اس کے علاوہ مدارس کے بچوں کا بھی ہمیں ہی سوچنا ہے، موجودہ حکومت پاکستان کی مذہبی قیادت کےساتھ کندھےسےکندھاملاکرچلےگی، صوفیائے کرام نے پاکستان کی دھرتی کوفیض بخشا، ان علماء کی ایک طویل فہرست ہے اور مغل بادشاہ اپنی نظریں نیچی کر کہ ان بزرگان دین کے مزاروں پر حاضری دیا کرتے تھے، ان کے مزاروں پر دھماکے ہوئے بے ادبیوں کی انتہا ہوئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ ناکامی جو ہوئی وہ یہ ہوئی کہ ریاست نے ان تمام واقعات کو تماشائی بن کر دیکھا،نظریاتی کی لڑائی بندوق سے نہیں دلائل سے جیتی جاتی ہے،ہماری حکومت بہتری کی طرف جارہی ہےیہ حکومت مذہبی قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ کھڑی ہے، ہم نے اور آپ نے مل کر اس لڑائی کو روکنا ہے جو ایسے شرپسند عناصر کےہاتھوں میں جارہی ہے جو مذہب اور ریاست کی خدمت نہیں کررہے۔