نمونیا جان لیوا مرض مگر قابل علاج

نمونیا جان لیوا مرض مگر قابل علاج


اسلام آباد (24نیوز) پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج نمونیے سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں روزانہ ڈھائی سو بچے نمونیہ کے باعث موت کی آغوش میں پہنچ جاتے ہیں اگر احتیاطی تدابیر کی جائیں تو اموات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد بچوں کو نمونیے کی بیماری سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے متعلق عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا ہے۔

دنیا بھر کے ترقی پزیر ممالک میں 98فیصد بچے نمونیا کی بیماری کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔ ہر پندرہ سے بیس سیکنڈ میں ایک بچہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ معمولی کھانسی سے شروع ہونے والی یہ بیماری، خسرہ، ایڈز اور ملیریا سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔

پاکستان میں ہر سال 71 ہزار بچے نمونیا کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ نمونیا کی بیماری سے دنیا بھر میں ہر سال 2 ملین بچے جاں بحق ہو جاتے ہیں۔پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شرح اموات کی سب سے بڑی وجہ نمونیا ہے۔

نمونیا سے بچاؤ کا دن منانے کا مقصد بچوں کو نمونیے کی بیماری سے بچاو اور احتیاطی تدابیر کے متعلق عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا ہے۔ نمونیہ سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب ہے اور یہ بچوں کے حفاظتی کورس میں شامل ہے۔ عام طور پر جو مائیں اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوا لیتی ہیں وہ بچے اس بیماری سے بچ جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نمونیا کے مریض کے علاج کے لئے گھریلو ٹوٹکوں پر عمل کرنے کے بجائے مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تو جان بچانا آسان ہے۔

 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔