سابقہ قسطوں کی ادائیگی کیلئے مزید قرض لینا پڑا:عمران خان


اسلام آباد( 24نیوز ) وزیراعظم عمران خان نے وزارتِ خزانہ سے گزشتہ دس برسوں میں لیے گئے قرضے کے اخراجات کی تفصیلات طلب کرلیں۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس میں معاشی صورت حال کی بہتری کے اقدامات اور آئی ایم ایف سےرجوع کرنے کی حکمت عملی پر کابینہ کو اعتماد میں لیے جانے کا امکان ہے،اجلاس میں کرپٹ عناصر اور منی لانڈرنگ کے جرائم کی نشاندہی سے متعلق 'وسل بلور' کا مسودہ قانون پیش کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

اجلاس کے دوران بعض افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل ) میں شامل کرنے یا نکالنے سے متعلق بھی غور ہوگا اور اس حوالے سے متعلق پالیسی پر وزارت داخلہ بریفنگ دے گی۔

کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ لیے گئے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضوں کی ضرورت پڑ رہی ہے، دس سال میں پاکستان کا قرضہ 6 ہزار سے 30ہزار ارب روپے ہوگیا ہے، وزارت خزانہ سے قرضوں سے متعلق تفصیلات پوچھی ہیں، وزارت خزانہ بتائے دس برسوں میں لیا گیا قرضہ کن منصوبوں پر خرچ ہوا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ اورنج ٹرین میں تو خسارہ ہے اس کے لیے مزید قرضے لینے ہوں گے،نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہاوسنگ پراجیکٹ سے تعمیراتی صنعت میں ترقی ہوگی۔