وہ وقت جب کراچی میں فیکٹری کے اندر 259 افراد کو زندہ جلا دیا گیا

وہ وقت جب کراچی میں فیکٹری کے اندر 259 افراد کو زندہ جلا دیا گیا


کراچی (24نیوز) سانحہ بلدیہ انسانی تاریخ میں زندہ انسانوں کو زندہ جلائے جانے کے بدترین واقعات میں لکھا جاتا ہے 259 افراد کو زندہ جلائے جانے کے واقعہ کو سات برس بیت گئے، ورثاء آج بھی انصاف کے متلاشی  ہیں ۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کیا ہے؟ 

سال 2012 میں کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ٹیکسٹائل فیکٹری میں خوفناک  آگ لگی تھی جس کے نتیجے میں 259 ہلاک ہوگئے تھے۔  فیکٹری میں آگ لگنے پر مزدوروں نے باہر نکلنے کی کوشش کی جس پر منیجر نے فیکٹری کا واحد دروازہ ہی بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ 

اس کیس کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنی،  تحقیقات میں پیشرفت کے دعوے بھی ہوئے لیکن مرکزی ملزمان آج بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ اس کیس میں کراچی کی معروف سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کے انکشافات ہوئے۔  کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت(اے ٹی سی)  نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما روف صدیقی، کارکن زبیر عرف چریا اور عبدالرحمٰن بھولا پر فرد جرم عائد کی تھی اور علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا تھا۔

عبدالرحمٰن عرف بھولا نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے زبیر عرف چریا اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر حماد صدیقی کے کہنے پر بلدیہ میں قائم گارمنٹس فیکٹری کو آگ لگائی تھی کیونکہ فیکٹری کے مالکان نے بھتے کی رقم اور فیکٹری میں شراکت داری دینے سے انکار کردیا تھا۔ 

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔