یوٹرن میں کیا حرج ہے؟

مناظرعلی

یوٹرن میں کیا حرج ہے؟


کبوترپالنے والے حضرات جانتے ہیں کہ جب کبوترکویہ پتہ چلتاہے کہ بلی اس پرحملہ آورہونے والی ہے تووہ خود کوبچانے کی کوشش کرنے کی بجائے آنکھیں بندکرلیتاہے،اس کاگمان یہ ہوتاہے کہ اب بلی اسے نہیں دیکھ پائے گی لہذا آنکھیں بندکرنے سے وہ محفوظ ہوگیاہے اورپھرپتہ تب چلتاہے جب بلی کے نوکیلے دانت کبوترکی گردن دبوچ لیتے ہیں اوریوں بے چارہ کبوتراپنی خام خیالی کے ہاتھوں بلی کی خوراک بن جاتاہے۔کبوترکی شرافت،خوبصورتی اوراونچی اڑان کے بعداپنے ہی گھرلوٹنے کی صلاحیتیں اپنی جگہ مگرشکاری بلی سے اپنے ہی گھرمیں جان ضائع کرابیٹھنااس کی دیگرتمام خوبیوں پربھی پانی پھیردیتاہے،بالکل اسی طرح جب ٹی وی سکرین پربریکنگ دیکھی تو ایسے ہی کبوتریادآگیا۔اب ہم اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔

توقع تویہ کی تھی کہ آئی جی پنجاب عارف نوازصاحب پولیس کی جانب سے ملزمان پر تشدد روکنے بارے کوئی ٹھوس اقدامات کریں گےاورانہوں نےملزمان کا تفتیش سے قبل میڈیکل کرانے کاحکم بھی دیاجوایک اچھااقدام ہے مگرپنجاب بھرکے تھانوں میں کیمرے والے موبائل فون لیجانے پرپابندی کے حکم نے توایک نیاسوال پیداکردیاہے کہ اعلیٰ افسران تھانہ کلچربدلنے کی بجائے اپنے اعمال چھپانے کابندوبست کررہے ہیں،یہ خبرمیڈیاپرچلتے ہی عوامی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔

میرے خیال میں تھانہ کلچر اورپولیس کے بارے میں عوامی سوچ بدلنے کے لیے اس سے اچھاموقع نہیں ہے کہ جب یکے بعددیگرتشددکے واقعات کی خبریں میڈیاکی زینت بن رہی ہیں اورایسے میں لوگ حکومت اوراعلیٰ افسران سے ایک ہی مطالبہ کررہے ہیں کہ اپنی صفوں سے کالی بھیڑوں کو نکال دیں اورمحکمے کی ساکھ متاثرہونے سے بچائیں،وہ پولیس جسے شہریوں کی حفاظت کی ضامن ہوناچاہیے اس پرجولوگوں کو مارنے کابھوت سوار ہے اس بھوت کوبوتل میں بندکرکے ایک بہترین فورس کاتاثرپیداکریں۔اگرموجودہ آئی جی ایسے اقدامات کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں توتاریخ میں ان کی کاوش سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہوگی بلکہ یقینی طورپران کادور پولیس اورعوام کے لیے ناقابل فراموش رہے گا،پولیس اہلکاروں کے رویئے اورتھانہ کلچربدلنے پراس سے قبل بھی میراایک بلاگ پبلش ہوچکاہے جس میں تفصیلی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیئے: پولیس اپنی عزت بچالے!

بعض دفعہ انسان کچھ بہترکرنے کاسوچتاہے جیساکہ آئی جی پنجاب نے صلاح الدین کی ہلاکت کے بعدفوری ملزمان کے قبل ازتفتیش میڈیکل کاحکم دیامگرکچھ مشیرجنہیں جلدبازی کے فیصلوں کے نتائج کاعلم نہیں ہوتا،وہ ایسے فیصلے کرنے کے مفت مشورے دے دیتے ہیں جن کافائدہ ہونے کی بجائے الٹانقصان ہوتاہے،بظاہرموبائل فون تھانوں میں لیجانے پرپابندی سے کسی کواعتراض نہیں ہوناچاہیے مگرموجودہ حالات میں جب مختلف ویڈیوزکی بدولت ہی پولیس کے ناقابل یقین حدتک رویے کاپتہ چلاہے،موبائل فون پرپابندی کافیصلہ مناسب نہیں ،جس کاسیدھاسیدھامطلب یہ ہے کہ اعلیٰ افسران یہ نہیں چاہتے کہ کوئی ان کے تھانے میں اندازتفتیش کودیکھے اورتنقید کرے لہذا بہترحل یہی ہے کہ یہ آلہ ہی تھانوں میں ممنوع قراردیدیاجائے۔پھرانہیں کون دیکھے گا؟نہ رہے گابانس،نہ بجے گی بانسری۔مگریادرکھناچاہیے کہ ظلم چھپتانہیں اوراندھیرے کے بعدروشنی لازمی آتی ہے۔موبائل پرپابندی کے بعدبھی دیکھ لیجے گا کہ یہ دورجدیدٹیکنالوجی کادور ہے،تشددجتنامرضی ہے چھپ کر کریں،اس پرپردہ پوشی ممکن نہیں۔

غلط راستے پرچاہے انسان بہت دورتک چلاجائے مگرغلطی کااحساس ہوتے ہی یوٹرن لے کرسیدھے راستے پرچل پڑے تواس کوغلطی نہیں بلکہ دانشمندی ہی کہتے ہیں ۔مجھے یہاں ایک سابق سفارتکارکی بات یاد آگئی جن سے وزیراعظم عمران خان کے بارے میں سوال کیاگیاکہ وہ یوٹرن بڑے لیتے ہیں توکہنے لگے کہ یوٹرن حرام نہیں،جائزہے۔اگرانسان کوپتہ چل جائے کہ راستے میں آگے چل کرگہری کھائی آرہی ہے جس میں گرکرہلاکت یقینی ہے تویوٹرن میں کیاحرج ہے؟؟

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔