"الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر لگائی جانیوالی بندش تشویشناک ہے"



اسلام آباد( 24نیوز ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں،سوسائٹی کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹیویزم میں عدم دلچسپی پر ناخوش ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹوازم پر خوش نہیں،سوسائٹی کا وہ طبقہ چند ماہ پہلے جوڈیشل ایکٹیویزم پر تنقید کرتا تھا, ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سو موٹو پر عدالتی گریز زیادہ محفوظ ہے اور کم نقصان دہ ہے ۔

چیف جسٹس کاکہناتھا کہ معاشرے کا وہ طبقہ چند لوگوں کے مطالبے پر سو موٹو لینے کو سراہتا ہے، ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پر عزم ہیں،عدالتی عمل میں دلچسپی رکھنے والے درخواست دائر کریں جسے سن کر فیصلہ ہوگا،انہوں کہا کہ اپنی تقریر میں کہہ چکا ہوں کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا۔

ان کاکہناتھا کہ جوکسی کے مطالبے پر لیا گیا وہ سوموٹو نوٹس نہیں ہوتا جب ضروری ہوا یہ عدالت سو موٹو نوٹس لے گی،جوڈیشل ایکٹیویزم کی بجائے سپریم کورٹ عملی فعل جوڈیشلیزم کو فروغ دے رہی ہے، اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 بطور ادارہ اس تاثر کو کہ ملک میں جاری احتساب سیاسی انجینیئرنگ ہے بہت خطرناک سمجھتے ہیں,اس تاثر کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں تاکہ شفافیت برقرار رہے،ریاست کی لوٹی ہوئی دولت کی ریکوری احسن اقدام ہے,لوٹی ہوئی دولت کی قانون کےمطابق ریکوری ضروری ہے۔

غیر جانبدارانہ اور منصفانہ اقدار پر سمجھوتہ معاشرے کیلئے نقصان دہ ہے,اس سے سماجی اور معاشی انصاف سے متعلق قرارداد مقاصد کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے,آئین پاکستان کا دیباچہ بھی سیاسی انصاف کی ضمانت دیتا ہے, الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر لگائی جانیوالی قدغن بھی تشویشناک ہے، کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بد اعتمادی کو جنم دیتا ہےجس سے جمہوری نظام کو بھی خطرہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اظہار رائے کو دبانے سے معاشرے میں ذہنی تناو پیدا ہوتا ہے، مختصر سیاسی مقاصد اور طرز حکمرانی کیلئے شہریوں کے آئینی حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے,اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں,میں نے تقاضا کیا تھا کہ انتظامیہ اور قانون ساز عدالتی نظام کی تنظیم نو کے لیے نیا تین تہی نظام متعارف کروائیں،بدقسمتی سے اس معاملے پر کچھ نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جوڈیشل کونسل کے ممبران اور چیئرمین کیلئےججز کے کنڈکٹ پر کاروائی آسان کام نہیں, آئین صدر مملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کرے,سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کرسکتی۔

صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتی، دوسری جانب کونسل اپنی کاروائی میں آزاد اور بااختیار ہے،صدر مملکت کی جانب سے دائر دو ریفرنس شامل ہیں،دونوں ریفرنسز پر کونسل اپنی کارروائی کررہی ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران اور چیرمین اپنے حلف پر قائم ہیں کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے بغیر اپنا کام جاری رکھے گی قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی بھی توقع نہ رکھی جائے۔

گزشتہ عدالتی سال کے آغاز پر ملک بھر کی عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 1.81 ملین تھی,لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے مطابق زیر التواء مقدمات کی تعداد کم ہوکر 1.78 ملین ہوگئی ہے, گزشتہ سال سپریم کورٹ میں 19 ہزار 751 مقدمات کا اندراج ہوا, گزشتہ سال عدالت عظمی نے 57 ہزار 684 مقدمات نمٹائے دنیا بھر کی سپریم کورٹ میں پہلی بار سپریم کورٹ پاکستان نے ای کورٹ سسٹم متعارف کروایا۔

امریکہ میں سول ججز کی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس دنیا کا مستقبل ہے، از خود نوٹس کے استعمال سے متعلق آئندہ فل کورٹ میٹنگ تک مسودہ تیار کر لیا جائے گا, اس مسئلے کو بھی ایک دفعہ ہمیشہ کے لیے حل کر لیا جائے گا۔