کراچی میں آگ لگی یا لگائی گئی،بڑا انکشاف سامنے آگیا

کراچی میں آگ لگی یا لگائی گئی،بڑا انکشاف سامنے آگیا


کراچی(24نیوز) سٹی کورٹ کے مال خانے میں آگ لگنے سے اہم نوعیت کا رکارڈ ضائع ہوگیا، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے واقعے کا نوٹس تو لے لیا ہے، لیکن واقعے نے کئی سوالات کھڑے کر دئیے۔
تفصیلات کے مطابق سٹی کورٹ کے مال خانے میں آگ لگنے سے اہم نوعیت کا رکارڈ ضائع ہوگیا۔  آگ حادثاتی طور پرلگی یا یہ کسی سازش کے تحت لگائی گئی۔ کیا غفلت برتنے پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی۔ واقعے نے کئی سوالات کھڑے کر دئیے۔

واضح رہے کہ مال خانے کا ریکارڈ جلنے سے پولیس تفتیش اور کرمنل مقدمات میں ملزمان کوفائدہ حاصل ہوگا۔ چاروں ضلعی عدالتوں کے کیسز کا اہم ریکارڈ آگ کی نذر ہوگیا۔ کراچی کےبگڑے حالات مشکل سے قابومیں آئےہیں۔ شواہد اورکیس پراپرٹی ضائع ہونےکا براہ راست فائدہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کوہوگا۔ ملزمان اب باآسانی بری ہوسکتےہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خادم رضوی ڈٹ گئے،ملک بھر میں احتجاج کا اعلان  

 علاوہ ازیں چوری، ڈکیتیوں سے برآمد نقدی سونا غیرملکی کرنسیاں اور دیگر سامان ضائع ہوگیا۔ ہزاروں پراپرٹی مقدمات سمیت کئی دہائیوں کے اہم مقدمات کےشواہد بھی جل گئے۔ڈسٹرکٹ ایسٹ کے بڑے پراپرٹی مقدمات کے کیس سمیت ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں شاہ زیب ، سرفراز شاہ اور انتظار قتل کیس، رینجرز ٹیکسی ڈرائیور فائرنگ کیس،کورنگی چکرا گوٹھ اور دیگراہم مقدمات کے کیس پراپرٹی بھی متعلقہ مال خانےمیں موجود تھے۔ 2016میں بھی اسی مال خانے کی دیوارتیز بارشوں کے باعث گرنے سے دستی بم پھٹ گیا تھاجس کےنتیجے میں 1 پولیس اہلکارکا ہاتھ ضائع ہوا اور3 سائلین زخمی ہوئےتھے۔         

دوسری جانب مال خانے میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لئے کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئیں۔ انکوائریوں کا بھی آغازہوگیا۔ کیا ذمہ داروں کا تعین انھیں غفلت برتنےپرسزائیں مل سکیں گی۔ یہ ایک سوال نشان ہے۔