پیسہ نہیں ہوگا تو نادرا کاحال بھی پی آئی اے جیسا ہوگا:چیف جسٹس


اسلام آباد(24نیوز) تارکین وطن پاکستانیوں کے شناختی کارڈ کے اجرا میں زائد فیس سے متعلق کیس کی سماعت پرعدالت نے بیرون ممالک میں قائم اووسیز سنٹرز کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے بیرون ممالک میں قائم اوور سیز سنٹرز سے متعلق 10 دنوں میں جواب طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق نمائندہ دفتر خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ تارکین وطن پاکستانیوں کی فیس میں کمی سے متعلق سمری منظور کر لی گئی. 221.8میلین روپے بیرونی ممالک میں قائم نادرہ سنٹرز پر خرچ ہوۓ. چئیرمین نادرانے بتایاکہ 4نادراسنٹرزبندکرنے سے 48ملین کی بچت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:آج کا دن گلیوں کی معصوم کلیوں کے نام 

  چیف جسٹس نے ریماکس دئیے کہ ہمیں بیرونی ممالک کے تمام نادرہ سنٹرز پر اخراجات اور تعینات افراد کی تفصیلات چاہیے۔ نادرا بیرون ممالک میں دیگر سنٹرزکے وجود کی وضاحت کرے۔ بتایاجائے دیگرسنٹرز کوبرقراررکھنے کی وجوہات کیا ہیں۔ بیرون ملک سنٹرزسے کتنے لوگوں نے کارڈ بنوائے تفصیل بتائیں۔

یہ بھی پڑھیں:فلاحی تنظیموں نے بے سہارا لڑکیوں کے گھر بسا دیئے 

 دوسری جانب نمائندہ دفتر خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ 4سنٹرز جو بیرونی ممالک میں قائم ہیں انہیں بند کر دیا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ سرکار نے نادراکے کتنے پیسے دینے ہیں۔ چئیرمین نادرانے عدالت کو بتایا کہ سرکار نے ستمبر2017تک 26بلین روپے دینے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمکس دیئے کہ سرکار اگر پیسہ نہیں دے گی توادرہ کیسے چلے گا۔ پیسہ نہیں ہوگا  تو نادرا کاحال بھی پی آئی اے جیسا ہوگا۔