بھارت میں 8 سالہ مسلمان بچی اجتماعی زیادتی کا نشانہ،ثانیہ مرزا نے ظلم کے خلاف آواز بلند کر دی


 24نیوز: بھارت میں 8 سالہ مسلمان بچی کو اغوا اوراجتماعی زیادتی کے بعد قتل کردیاگیا، ٹینس سٹارثانیہ مرزا نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی تو ہندوانتہاپسند ان کی جان کو آگئے،ثانیہ مرزا کو پاکستانی ایجنٹ تک قراردے دیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں انسانیت سوز مظالم پربھی مذہب کا پردہ ڈالا جانے لگا۔ بھارت میں 8سالہ مسلمان بچی آصفہ بانو کو پہلے اغواکیاگیا۔اسے کئی روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیااورپھراسے قتل کردیاگیا۔ ٹینس اسٹارثانیہ مرزا نے اس ظلم کے خلاف ٹویٹرپراپنے جذبات کا اظہارکیا تو ہندوانتہاپسندوں نےاسے مذہبی مسئلہ بناکرثانیہ مرزا کو ہدف بنالیااورزیادتی کرنے والے درندوں کی حمایت شروع کردی۔ ثانیہ مرزا کا اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کیا یہ ہے بھارت کا وہ چہرہ جودنیا کو دیکھانا چاہتے ہیں۔ثانیہ مرزا نے لکھا اگر جنس،نسل اورمذہب کوچھوڑ کرایک بچی کے ساتھ ظلم کیلئے آواز نہیں اٹھائی جا سکتی تودنیا میں کسی چیز کیلئے آواز نہیں اٹھائی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:معصوم بچوں سے زیادتی، ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈالنے والے 12درندوں کے گروہ کا انکشاف 

 واضح رہے کہ ثانیہ مرزا کی ٹویٹ بھارتیوں سے ہضم نہ ہوئی۔ایک ہندوٹویٹرصارف نے ثانیہ مرزا کوپاکستانی ایجنٹ قرار دے دیا۔لکھا پاکستانی سے شادی کے بعد آپ بھارتی نہیں رہیں۔ جس پرثانیہ مرزا نے جواب دیا بھارت کے لیے کھیلتی ہوں۔ہمیشہ بھارتی رہوں گی۔آپ مذہب اورملک سے آگے سوچیں تو ایک دن انسانیت کے لیے آواز بلند کریں گے۔ اس کے بعد تو ایک سلسلہ چل نکلا اورانتہاپسند ہندو دل کھول کرثانیہ مرزا پرتنقید کرتے رہے۔ کسی نے مسلمان بچی کے ساتھ ہونے والی زیادتی پرزبان نہ کھولی۔