نواز شریف، جہانگیر ترین تاحیات نا اہل، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا


اسلام آباد (24نیوز) نوازشریف اور جہانگیرترین سمیت دیگر نااہل اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی تاحیات ہو گی۔ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ پانچ رکنی لارجر بنچ نے فیصلہ سنایا۔

24نیوز کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین سمیت آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل ہونے والوں سے متعلق سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ57 روز بعد سنایا گیا۔

مریم اورنگ زیب کا ردِ عمل:

میاں نواز شریف کی نا اہلی پر ردِ عمل دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات کا کہنا  ہے کہ یہ وہی فیصلہ ہے جو 1999 میں طیارہ کیس میں دیا گیا تھا۔  یہ وہی فیصلہ ہے جس کے تحت بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ یہ وہی فیصلہ ہے جو پانامہ کے بجائے اقامہ پر دیا گیا۔

یہ فیصلہ ٹرائل کی بنیاد پر دیا گیا۔ جبکہ نیب میں ٹرائل مکمل نہیں ہوا۔ بلا شبہ احتساب عدالت میں ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ جس طرح کی جرح چل رہی ہے اس دوران ایسا فیصلہ آیا ہے۔ واجد ضیا کہہ چکے ہیں کہ ایسی کوئی دستاویزات سامنے نہیں آئیں جن کے مطابق تخواہ لینے کا کوئی ثبوت ملا ہو۔

ن لیگ کے کارکنان کے "عدلیہ ہائے ہائے" اور "فیصلہ نامنظور نامنظور " کے نعرے لگتے رہے

انھوں نے مزید کہا کہ نواز شریف پر ٹرائل کے دوران کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ آج منتخب وزیر اعظم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نا اہل کر دیا گیا۔ ایک واٹس ایپ پر بننے والی جے آئی ٹی کا فیصلہ تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیم لیس اور کوئی بھی پہچان نہ رکھنے والوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ تا حیات نا اہلی تو ممکن بنا دی آپ لوگوں نے اس کی نا اہلی کا فیصلہ عوام سنائیں گے۔

1999 میں بھی یہی ایسی ہی نا اہلی سامنے آئی تھی۔ جبکہ مریم اورنگزیب کی تقریر کے دوران "عدلیہ ہائے ہائے" کے نعرے بھی لگائے جاتے رہے۔

شیخ رشید کی رائے

شیخ رشید نے اس فیصلہ کے بارے میں کہا کہ ایسا تو ہونا ہی تھا۔ کیونکہ ایسے کرپٹ لوگوں کو عوام قبول نہیں کریں گے۔ پھر عدلیہ کیسے ان کو عوام کے ووٹ کا حقدار ٹھہرا سکتی ہے۔24نیوز کے مزید سوالوں کے جواب دینے سے پہلے ہی ان کی کال ڈراپ ہو گئی۔

شاہراہِ دستور پر احتجاج

جیسے ہی سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنایا تو مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کی۔ جہاں موجود کارکنان نے شاہراہِ دستور بلاک کردی۔ یہاں کارکنوں کی کوئی زیادہ بڑی تعداد نہیں ہے لیکن درجنوں میں ضرور موجود ہیں۔ کارکنان کی جانب سے عدلیہ مخالف نعرے بازی کی جا رہی ہے۔

کارکنان نے دھرنا دے دیا ہے اور شاہراہِ دستور کو بلاک کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ٹریفک نظام بری طرف درہم برہم ہو گیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا بیان

نواز شریف نااہلی پر اپوزیشن لیڈر خورشید نے کہا کہ اس فیصلہ کا تعلق تاریخ سے ہے۔ نواز شریف پر الزامات تھے تو نا اہل کیا گیا۔ آج ان کو تا حیات نا اہل کر دیا گیا۔ جس آرٹیکل کے تحت ان کو نا اہل کیا گیا یہ جنرل ریٹائرڈ ضیا الحق نے نواز شریف کو دیا۔ اس کو ختم کرنے کی ہم نے کوششیں کیں لیکن وہ مانے ہی نہیں۔ آج اگر وہ سب کے سامنے کھڑے ہونے کا سوچ رہے ہیں تو اکیلے رہ جائیں گے۔ 

62 ون ایف وہی آرٹیکل ہے جو جنرل (ر) ضیاالحق نے نواز شریف کو دیا تھا

پانامہ کے بارے میں پارلیمنٹ کا راستہ سمجھایا لیکن وہ سپریم کورٹ کے دروازے پر پہنچے۔ پھر اس کا ملبہ پارلیمنٹ پر ڈال دیا۔ اب جو فیصلہ سپریم کورٹ نے سنا دیا ہے اس کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا چاہیے۔ کیونکہ پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین بھی تو نا اہل ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اگر پارلیمان بالا دست ہو گی تو وہ فیصلے بھی خود کرے گی۔ طیارہ کیس ایک ڈکٹیٹر اور پارلیمنٹ کی جنگ تھی۔ پی پی پی نے نواز شریف کا ساتھ دیا تھا۔ انھوں نے بات گول کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا یہ کوئی قربانی تھی۔ تھی تو کیوں تھی یا کس لیے دی گئی۔

خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے آئین کے تحت فیصلہ کیا ہے اب اسے قبول کرنا چاہیے۔لڑنے جھگڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔پارلیمنٹ کی بالادستی کسی اور کے ہاتھ میں دیں گئے تو نقصان ہوگا۔سیاست دانوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کو ہی کرنا چاہیے۔نوازشریف نے اپوزیشن کی گزارش کے باوجود سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکٹایا۔سیاست کا منبہ پارلیمنٹ سے ہٹا کر عدالت لے گئے۔پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم نہیں کرو گئے ۔تو اپنی سیاست کھو دو گے۔

 یہ بھی پڑھئے: چودھری نثار نے تحریک انصاف میں جانے کے حوالے سے خاموشی توڑ دی 

24نیوز کے مطابق 14 فروری کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لاجر بنچ سماعت کے بعد محفوظ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ سپریم کورٹ مقدمہ کا فیصلہ کچھ ہی دیر میں سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں سنایا جائے گا۔

’’ن لیگ کے قائد نواز شریف اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین اسی آرٹیکل کے تحت نا اہل ہوئے تھے‘‘

قبل ازیں بنچ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے علاوہ جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے نااہلی کی مدت کی تشریح کے لیے 13درخواستوں کی سماعت کی۔

پڑھنا نہ بھولئے: اڈیالہ جیل کی صفائیاں ، کیا کوئی خاص مہمان جارہا ہے؟ 

واضح رہے کہ 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے نوازشریف کو نا اہل قرار دیا تھا۔ جس کے بعد انہیں پارٹی صدارت کے لیے بھی نا اہل قرار دے دیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین بھی اسی ارٹیکل کے تحت نااہل ہوئے۔

جہانگیر ترین کا ردعمل:

جہانگیر ترین نے تاحیات نااہل ہونے کے بعد اپنے ٹویٹ میں کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی تا حیات ہونی چاہیے۔جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ میرے کیس میں ایسا نہیں ہے۔ میری نظر ثانی کی اپیل زیر التوا ہے۔ مجھے انصاف ملنے کی امید ہے۔ منی ٹریل، ٹیکس اور جائیداد کی مکمل تفصیل عدالت کو دے  دی ہے۔

بابر اعوان کا ردعمل:

سپریم کورٹ اسلام آبادمیں میڈیا سےبات کرتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ آج ایک تاریخی فیصلہ آیا ہے۔ شہید بی بی کا احتساب کرنے کے لیے کھودے گئے پہلے گڑھے میں نواز شریف خود گر گئے ہیں۔ نواز شریف کی تاریخ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے لیے گڑھا کھودتے ہیں اور خود گرجاتے ہیں۔

بابر اعوان کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی شق کو اٹھارویں ترمیم میں بھی نواز شریف نے روکا۔ نواز شریف کو کہا تھا جس ظالمانہ قانون سازی کی حمایت کرتے ہیں اس میں آپ پکڑے جائیں گے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف پر مبنی اور آئین کی روح کے مطابق ہے۔جبکہ میرے سوا تمام وکلاء نے تاحیات نااہلی کے خلاف دلائل دیے تھے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ کا اضافی نوٹ:

جسٹس عمر عطا بندیا کے تحریر کئے گئے فیصلے میں جسٹس عظمت سعید نے اپنا اضافی نوٹ بھی تحریر کیا۔ اضافی نوٹ میں جسٹس عظمت سعید نے کہا وہ ساتھی جج جسٹس عمرعطا بندیال کے فیصلےسےمتفق ہیں۔ لیکن فیصلےکی وجوہات سے انہیں اتفاق نہیں۔  اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف اسلامی اقدار کے عین مطابق ہے۔ لیکن نااہلیت مخصوص مدت کیلئے تو شق کی افادیت ختم ہو جائے گی۔

نوٹ میں مزید  کہا گیا ہے کہ آئین سازی کے وقت یہ شق جان بوجھ کر رکھی گئی تاکہ نااہل شخص دوبارہ منتخب نہ ہو۔جب آئین میں مدت کا تعین نہیں تو عدالت کیسے کرسکتی ہے۔ عدالت کو صرف آئین کی تشریح کا اختیار ہے۔  اضافی نوٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ نااہلی کا ڈیکلریشن قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پر ہی جاری ہوتا ہے۔ ڈیکلریشن کی موجودگی تک نااہلی برقرار رہے گی۔ عدالت کئی فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ نااہلی دائمی ہوگی۔

شاہ محمود قریشی کا ردعمل:

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ ہم ن لیگ کوآئین میں ترمیم نہیں کرنے دیں گے۔اور ایک شخص کے لیےآئین میں ترمیم نہیں کرنے دیں گے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے۔اور ہم عدالت کا احترام کرتے ہوئے اس فیصلے کو مانتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا ردعمل:

پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے جہانگیر ترین اور نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے پرٹویٹ کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کی قسمت کا فیصلہ عوام کے پاس ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی اورن لیگ نے سیاست کو جوڈیشلائزڈ کر دیا۔نواز شریف اور جہانگیر ترین اب اپنی کرتوتوں کا سامنا کریں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو  کا ردعمل:

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ میاں صاحب کو ماننا پڑے گا۔میاں صاحب اصول پرست انسان تھے۔یوسف رضا گیلانی کے ٹائم پر کہتے غلط فیصلہ ہے تو آج وہ بھی کہتے غلط فیصلہ ہے۔اصول اصول ہوتے ہیں اپنی باری آئی توتمام اصول بھول گئے۔