’4 ماہ کے بجٹ کا مطالبہ سیاسی کھیل ہے‘

’4 ماہ کے بجٹ کا مطالبہ سیاسی کھیل ہے‘


اسلام آباد (24نیوز) وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل نے کہا ہے کہ پورے سال کا بجٹ دے کر جائیں گے۔ 4 ماہ کے بجٹ کا مطالبہ سیاسی کھیل ہے۔ درآمدات بڑھنے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی۔ مزید قرضہ لے سکتے ہیں۔ بجٹ میں نیا ٹیکس نہیں لگے گا۔

نیشنل پریس کلب میں آئندہ بجٹ اور عوام کی توقعات کے عنوان سے سیمینار سے خطاب میں وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل نے کہا کہ اپوزیشن بجٹ پر سیاست کر رہی ہے۔ 4 ماہ کا بجٹ پیش کرنے کا مطالبہ غیر منطقی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تحریک لبیک کی ڈیڈ لائن ختم، مذاکرات ناکام، ملک گیر احتجاج شروع 

انھوں نے واضح انداز میں کہا کہ بجٹ میں 12 مہینے کا پروگرام دے کر جائیں گے۔ بجٹ پورے سال کا ہو گا۔ جی ڈی پی کا ٹارگٹ بھی سال بھر کا ہوتا ہے۔ اگر تنخواہیں بڑھانی ہیں تو وہ 4 ماہ کے لیے کیسے بڑھ سکتی ہیں۔ اپوزیشن کا سیاسی ایجنڈا ہے یہ سیاسی کھیل ہیں۔ ماضی میں جب بھی حکومت بدلی تو گزشتہ حکومت کے بجٹ پر عمل ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم چوروں کو تحفظ دینے کے لیے نہیں ہے۔ پاکستان سے باہر موجود پیسہ واپس لانے کا دروازہ کھولا ہے۔ کوئی بھی حکومت بیرون ملک موجود پیسہ واپس لانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ بیرون ملک موجود سارا پیسہ چوری کا نہیں۔

پڑھنا نہ بھولئے: نااہلی تاحیات ہو گی یا نہیں؟ فیصلہ کل سنایا جائے گا 

وزیر مملکت برائے خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کے منفرد حالات ہیں۔ معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار 5 اعشاریہ 8 فیصد ہے۔ اس وقت مالی خسارے کا بڑھنا اور زرمبادلہ میں کمی بڑے چیلنجز ہیں۔ ترقی کی رفتار بڑھنے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا خدشہ رہتا ہے۔

رانا افضل نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے درآمدات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے رواں برس مالیاتی خسارہ 6 فیصد تک ہو سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ باعث تشویش ہے۔

ضرور پڑھئے: پاکستان نے دہشت گردوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیا، آرمی چیف 

مزید قرضوں کے حوالے سے عندیہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب حکومت میں آئے تو صرف 6 ارب ڈالرز کی زر مبادلہ ذخائر تھے۔ مدت پوری کر کے جائیں گے تو اچھا خاصہ زر مبادلہ موجود ہو گا۔

جبکہ سگریٹ کی قیمتوں کے بارے میں رانا افضل کا کہنا تھا کہ سگریٹ کی قیمتوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ سیمینار میں سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود بھی شریک ہوئے۔