حدیبیہ پیپر ملز کیس: ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں،جسٹس کے ریمارکس

حدیبیہ پیپر ملز کیس: ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں،جسٹس کے ریمارکس


اسلام آباد (24نیوز) سپریم کورٹ میں ’ حدیبیہ پیپر مل کیس کی سماعت ہوئی، نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر عمران الحق کے حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کے حق میں دلائل،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا، انیس سو بیانوے سے دو ہزار سترہ آ گیا ۔ مگر اب تک الزامات واضح نہیں،دستاویزات فراہم کریں،بیانات چھوڑیں،شواہد بتائیں،اسحاق ڈار کا بیان کس قانون کے تحت کسی دوسرے شخص کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے ؟۔

تفصیلات کے مطابق حدیبیہ کیس میں شریف خاندان کی بریت کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نیب کی اپیل پر سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی،دوران سماعت نیب کے پراسیکیوٹر عمران الحق نے حدییبہ کیس سے متعلق پانامہ جے آئی ٹی کی سفارشات پڑھ کر سنائیں،نیب پروسیکیوٹر نے کہا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ شریف خاندان نے ستمبر 1991میں منی لانڈرنگ شروع کی،سعید احمد اور مختار حسین کے نام پر اکاؤنٹ کھولے گئے ۔,اسحاق ڈار کا ایک سو چونسٹھ کا بیان بتاتا ہے کہ منی لانڈرنگ کیسے کی گئی , اسحاق ڈار نے جعلی اکاؤنٹس تسلیم کئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پراسیکیوشن نے چارج بتانا ہوتا ہے ۔ انیس سو بیانوے سے دو ہزار سترہ آ گیا , مگر اب تک الزامات واضح نہیں ہیں،پراسیکیوٹر نے بتایا کہ انیس سو اٹھانوے میں ایٹمی دھماکوں کے باعث فارن کرنسی اکاؤنٹس سے پیسہ نکلوا لیا گیا تھا , اسحاق ڈار نے بھی رقوم نکلوانے کا اعتراف کیا ہے, جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ دستاویزات فراہم کریں ,بیانات چھوڑیں ۔ شواہد بتائیں , آپ کو مکمل منی ٹریل ثابت کرنا ہے،اسحاق ڈار کے بیان کو کس قانون کے تحت کسی دوسرے شخص کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

قانونی طور پر یہ بیان عدالت یا چئیرمین نیب کے سامنے لیا جانا چاہئے تھا , قانون سب کے لئے ایک ہے،عدالت نے کیس کی سماعت بدھ کی صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔