عمران خان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق

عمران خان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق


 اسلام آباد (24 نیوز) انسداد دہشتگردی کی عدالت نے عمران خان کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات میں عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ حکم نامہ انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج شاہ رُخ ارجمند نے تحریر کیا۔

عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری حکم نامہ کے مطابق عمران خان کے وکیل کی یہ دلائل کہ دہشت گردی دفعات کا اطلاق نہیں ہوتا، ٹھوس نہیں۔ عمران خان سمیت تمام ملزمان کے خلاف دہشتگردی کے الزامات کا چالان موجود ہے۔ تمام ملزمان کے بظاہر کردار پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 6 کا اطلاق ہوتا ہے۔ تاہم ملزمان کے حقیقی کردار کا تعین شہادتیں قلمبند ہونے کے بعد ہوگا۔

تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف آئی آرز کے مطابق دھرنے کے شرکاء نے ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس پر حملہ کیا۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ سرکاری عمارتوں، پولیس افسران پر حملے کرنے والوں کا عام عدالت میں ٹرائل نہیں ہوسکتا۔ صرف ایک ملزم کے کہنے پر مقدمہ عام عدالت نہیں بھیجا جاسکتا۔ عمران خان کی دہشتگردی دفعات ختم کرنے کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی ہے 19 دسمبر کو عمران خان کی ضمانت میں توثیق پر دلائل دیے جائیں۔