فاٹا انضمام، ایف سی آر کے خاتمے کیلئے جماعت اسلامی نے ڈیڈ لائن دیدی

فاٹا انضمام، ایف سی آر کے خاتمے کیلئے جماعت اسلامی نے ڈیڈ لائن دیدی


اسلام آباد (24 نیوز): جماعت اسلامی نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے، ایف سی آر کے خاتمے اور قبائلی عوام کو حقوق دلانے کے لئے حکومت کو 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن دے دی۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر سے عوام اسلام آباد کا رخ کریں گے اور طویل دھرنا دیا جائے گا۔

سراج الحق نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ قبائلی علاقوں کے لوگ آپس میں تقسیم ہو جائیں۔ قبائلیوں کے صبر کا پیمانہ اگر لبریز ہو گیا تو ان کے دفتروں تک بھی پہنچیں گے۔ ہم سڑکیں بند کرنے والے نہیں ہیں حکومت سے کہہ چکا ہوں کہ 2018 پختونخوا کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اگر 31 دسمبر تک فاٹا کو پختونخوا سے نہ ملایا گیا تو سارے ملک سے لوگوں کو لے کر اسلام آباد لاوں گا۔ انہوں نے کہا کہ 31 دسمبر تک کارکنان خیموں کی تیاری کریں، پنڈی کے تمام تاجروں نے ہماری مہمان نوازی کا وعدہ کیا ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ اگر اصلاحات نہ ہوئیں تو ہم اپنے خیموں کے ساتھ اسلام آباد میں مستقل قیام کریں گے۔ سراج الحق نے کہا کہ قبائلی علاقے میں پولیٹیکل ایجنٹ آج بھی مغل بادشاہ سے زیادہ بااختیار ہے فاٹا میں ایف سی آر کے تحت بغیر وجہ بتائے پچیس سال سزا دی جاسکتی ہے۔ وزیر اعظم عباسی یاد رکھیں کہ فاٹا کی عوام ان کے اور وزرا کے گھروں کو تالے بھی لگا سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی بتائے گی دھرنا کیا ہوتا ہے یہ ہمارا تجربہ ہے دھرنا کیسے دیتے ہیں۔ خیموں کی تیاری کرلیں پھر لمبے یہاں بیٹھیں گے۔

قاضی حسین احمد نے جب دھرنا دیا تھا پھر اگلے دن حکومت نہیں رہی تھی۔ جماعت اسلامی فاٹا کا چائنہ چوک پر دھرنے سے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے کہ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کیا جائے اور حکومت فاٹا کے انضمام سے ڈرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس یہ آخری موقع ہے، ہمیں لولی پاپ نہیں چاہیے۔ اب فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنا چاہیے۔

شرکاء سے فاٹا کے عمائدین اور جماعت اسلامی کے دیگر رہنماوں نے بھی خطاب کیا۔