روس کی پاکستان کو دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے مل کر کام کرنے کی پیشکش

روس کی پاکستان کو دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے مل کر کام کرنے کی پیشکش


اسلام آباد (24 نیوز) روس کی پارلیمنٹ ڈوما کی کمیٹی برائے سیکیورٹی اور انسداد بدعنوانی نے پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے مل کر کام کرنے کی پیشکش کردی۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں برائے دفاع کا مشترکہ اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں روسی پارلیمنٹ ڈوما کی کمیٹی برائے سیکیورٹی اور انسداد بدعنوانی کے ارکان بھی شریک ہوئے۔ پارلیمان کی دونوں کمیٹیوں کے اراکین نے روسی پارلیمانی وفد کو خوش آمدید کہا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے روسی کمیٹی کے چیئرمین وی آئی پیسکاروف نے کہا کہ ان کے وفد کو پاکستان آ کر انتہائی مسرت ہوئی۔ روسی اور پاکستانی پارلیمان کے مابین تعاون انتہائی اہم ہے۔ ماضی میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات طویل عرصہ تک جمود کا شکار رہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کو مل کر دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کیلئے کام کرنا ہوگا۔

انھوں نے زور دیا کہ انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ مگر امریکی ریاست جارجیا سمیت چند دیگر ممالک نے منشیات کے استعمال کو قانونی قرار دے دیا۔ اگر کسی شخص کے خلاف کارروائی کی جائے تو وہ ایسے ملکوں میں پناہ لے سکتا ہے جبکہ انٹرنیٹ پر منشیات اسمگلنگ اور تشہیر کیلئے پوری جگہ دی جاتی ہے۔ منشیات اسمگلنگ کے بنیادی ٹھکانے تباہ اور ڈیلرز کو سزا دینا ہوگی۔ اس معاملے پر روس پاکستان اور ایران کیساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

اجلاس کے دوران پارلییمانی کمیٹیوں کے ارکان کا مہمانوں سے فرداً فرداً تعارف کرایا گیا۔ چیئرمین سینیٹ کمیٹی مشاہد حسین سید نے سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کا تعارف طاقتور جنرل اور سحر کامران کا بے نظیر بھٹو شہید کی دیرینہ ساتھی کے طور پر کرایا جبکہ انھوں نے اعجاز الحق کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ محرک افغان جہاد اور سابق صدر ضیاء الحق کے صاحبزادے ہیں۔