بینک صارفین کا ڈیٹا کیسے چوری ہوا؟چونکا دینے والا انکشاف

بینک صارفین کا ڈیٹا کیسے چوری ہوا؟چونکا دینے والا انکشاف


24نیوز : انٹرنیٹ اب روزمرہ انسانی زندگی کا ایک اہم جزو بن چکا ہے، کمپیوٹر ہو یا سمارٹ فون ، اب ٹیکنالوجی کی مدد سے آپ ضروریاتِ زندگی، آسائشیں اور سہولیات گھر بیٹھے منٹوں میں حاصل کر سکتے ہیں،تاہم برق رفتار انٹرنیٹ سے کشید کردہ سائیبر سپیس نامی اس نظام زندگی میں جہاں آسانیاں ہیں، وہیں خطرات بھی موجود ہیں۔

یہاں ایک مختلف نوعیت کے چور موجود ہیں جنھیں ہیکرز کہا جاتا ہے اور اگر کوئی فرد یا ادارہ محتاط اور محفوظ نہیں تو منٹوں ہی میں ہیکرز انھیں لاکھوں کروڑوں کا نقصان پہنچا سکتے ہیں،حال ہی میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر بینک صارفین کا ڈیٹا یا معلومات چوری ہونے اور ان کی بلیک مارکیٹ میں فروخت کی خبر سامنے آئی۔ یہ معلومات زیادہ تر ان متاثرہ صارفین کے کریڈٹ اور اے ٹی ایم کارڈ کی تفصیلات تھیں۔

اس چوری سے کتنے بینک اور ان سے منسلک کتنے صارفین متاثر ہوئے، اس حوالے سے حکومتی اداروں کی جانب سے واضح طور پر نہیں بتایا گیااور نہ ہی فارنزک یا سائنسی بنیادوں پر تحقیقات سامنے آئیں،دیکھنے میں تاہم یہ آیا کہ زیادہ تر مقامی بینکوں کی جانب سے صارفین کے کارڈ بلاک کیے گئے جو حفاظتی اقدامات کی درستگی کے بعد کھول دیے گئے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایتھیکل ہیکر 24 سالہ شہمیر عامرکا کہنا ہے کہ بینکوں سے صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کے بعد حکومت نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی، حکومت کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کے بعد صارفین کو حقائق سے آگاہ کیا جانا چاہیے تھا تا کہ مستقبل میں ادارے اور انفرادی صارفین دونوں خود کو محفوظ بنا سکیں۔

یاد رہے ایک امریکی کمپنی جو ہر سال دنیا بھر کے 10 بہترین اخلاقی ہیکروں کی فہرست جاری کرتی ہے، اس کی جانب سے شہمیر کو تیسرے نمبر پر شمار کیا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہیکر یا چور اس لیے کامیاب نہیں ہوتا کہ وہ بہت چالاک ہے، بلکہ وہ اس لیے کامیاب ہوتا ہے کہ اس کا شکار بننے والا صارف بےوقوف ہوتا ہے، رقوم کی کارڈ کے ذریعے ادائیگی یا منتقلی کے لیے بینکوں کی درمیان 'گیٹ وے' استعمال ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بینک اس مقصد کے لیے 'ویزا' یا 'ایم نیٹ' وغیرہ پر انحصار کرتے ہیں،'ایسا ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کسی ایک پر حملہ کیا گیا ہو جہاں سے بینکوں کا مواد چوری ہوا ہو۔