چیف جسٹس کا دورہ تھر ، مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا

چیف جسٹس کا دورہ تھر ، مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا


کراچی(24نیوز) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اوروزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ مٹھی پہنچ گئے،سول ہسپتال کےمختلف وارڈزکامعائنہ  اور کراچی میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار ایک روزہ دورہ پرتھر پار کر کے علاقہ مٹھی پہنچ گئے ہیں ان کے ہمراہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی ہیں، جسٹس فیصل عرب،جسٹس اعجاز الاحسن ،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی ،چیف سیکرٹری سندھ اور دیگر حکام بھی  ساتھ ہیں،چیف جسٹس نے آر او پلانٹ پہنچنےپر یہاں سے پانی بھی پیاجس کے بعد آر او پلانٹ کے عملے پربرہم بھی ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ پانی کی کوالٹی کو بہتر کیوں نہیں کیا گیا؟

قبل ازیں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تجاوزات کیخلاف آپریشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل اور میئر کراچی وسیم اختر عدالت میں پیش ہوئے، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے کیس کی سماعت پرتاجر اتحاد کے صدر حکیم شاہ کی عدالت حاضر ہو ئے ،حکیم شاہ نے عدالت کو بتایا کہ ہماری مارکیٹس کو گرا دیا گیا متبادل جگہ دی جائے۔

جس پرچیف جسٹس کی تاجر اتحاد کے صدر کی سرزنش کی اور ریمارکس دیئے کہ ایک تو ناجائز بیٹھے ہو اور پھرمتبادل بھی مانگ رہے ہو،کیا واشنگٹن،لندن،نیویارک میں ایسا کرسکتے ہو،میری نظرمیں آپ لوگوں کا کوئی حق نہیں،دادرسی کے لئے کے ایم سی کے پاس جائیں،قبضے کرکے مارکیٹس بنانا ناسور ہے،نقصان خود برداشت کریں، کیا ہم غیر مہذب معاشرے میں رہ رہے ہیں؟

 چیف جسٹس نے  غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا حکم د یتے ہو ئے ریمارکس دیئے کہ فلاحی پلاٹوں پر گھر،مارکیٹ کو 15 کی بجائے 45 دن کا نوٹس دیا جائے اور سندھ حکومت آپریشن میں شہری حکومت کی 20 کروڑ کی مددکرے،جس پر میئروسیم اختر کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے گرانٹ نہ دی تو؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 20 کروڑکی گرانٹ دیناوفاقی حکومت کی ذمہ داری نہیں، سندھ حکومت خود کے ایم سی کو 20 کروڑ جاری کرے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نےتحصیل ہسپتال اسلام کوٹ اورایک گاؤں کا دورہ بھی کیا اور وہاں بنیادی سہولیات کے فقدان کو جلداز جلد دور کرنے کی ہدایات کی،چیف جسٹس پاکستان کےدورے کےپیش نظرحفاظتی انتظامات سخت کئے گئے۔