کرپشن کرنیوالوں کو پھانسی لگانے کا قومی اسمبلی میں مطالبہ


اسلام آباد ( 24نیوز ) پارلیمنٹ ہاﺅس میں ایوان زیریں کا اجلاس جاری ہے،ارکان اسمبلی میں مختلف ایشوز پر گرما گرم بحث ہورہی ہے۔

کرپشن کرنیوالوں کو ڈی چوک پر پھانسی لگائی جائے:مراد سعید

وزیر مملکت مراد سعید نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے نقطہ اعتراض پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ علیمہ خان سے احتساب شروع کرنے پر میں متفق ہوں،میں اپوزیشن کا مطالبہ مانتا ہوں،اس قرار داد کو منظور کریں اور عمل شروع کریں،قوم سے وعدہ کرکے آیا ہوں ملک سے کرپشن ختم کرنی ہے،انہوں نے کہا ہے کہ کرپشن کرنیوالوں کو ڈی چوک پر پھانسی لگائی جائے۔

ویڈیو دیکھیں:

وزیر مملکت برائے مواصلات مراد سعید نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے 7 ارکان نے این آر او مانگا لیکن کیس چلیں گے اور کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ مراد سعید نے کہا کہ جس نے قوم کا ایک پیسا بھی لوٹا، اس کے اثاثے ڈی چوک پر نیلام کیے جائیں، قوم کا پیسہ لوٹنے والوں کو ڈی چوک پر پھانسی دی جائے۔

اپوزیشن کو دبانے کا طریقہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے حق میں نہیں:شاہد خاقان عباسی

 سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ احتساب سے بھاگنے والے نہیں، اگر اپوزیشن کو دبانے کے لیے نیب کو استعمال کرنا ہے تو اس کے لیے تیار ہیں۔ احتساب ہم سے شروع کریں اس کے مخالف نہیں لیکن اپوزیشن کو دبانے کا طریقہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے حق میں نہیں، آج نیب اپوزیشن ممبران پر الزامات لگاتا ہے جس سے لگتا ہے وہ واقعی مجرم ہیں، آج میڈیا ٹرائل ہوگیا تو کل انصاف کہاں ملے گا۔

ویڈیو دیکھیں:

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا گیا اور آج تک کیس نہیں بن سکا، اپوزیشن کو دبانے کے لیے احتساب کے ادارے استعمال کیے جا رہے ہیں، ہم احتساب سے نہیں گھبراتے لیکن انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جو آج ہورہا ہے وہ پرویز مشرف کے دور میں ہونے والی چیزوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، لیکن وہ آمر کا دورہ تھا، ملک میں جمہوریت نہیں تھی لیکن آج اس کا کیا جواز ہے، کوئی جواب دینے والا ہے، اسپیکر اسمبلی احتساب سے نہیں انتقام سے اراکین اور پارلیمنٹ کو بچائیں۔ حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں جن کا نام ای سی ایل پر نہیں لیکن ایف آئی اے نے ایئرپورٹ پر روک لیا جب کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ہے لیکن وزیراعظم اپنے جہاز میں بٹھا کر انہیں عمرے پر لے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک نے وزیروں کو فیل کردیا لیکن وزیراعظم نے انہیں پاس کردیا, وزیراعظم عمران خان کا ہیلی کاپٹر کیس نیب میں چل رہا ہے، اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو قائد ایوان کو بھی کیس میں گرفتار کیا جا سکتا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور وزیر دفاع کے خلاف کیس چل رہا ہے انہیں بھی گرفتار کرلیں۔کے پی کا احتساب بیورو بنا تھا، اربوں کاخرچہ ہوا کوئی پوچھنے والا نہیں، جہانگیر ترین کے بارے میں عدالتی حکم آیا وہ بھی آزاد پھر رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کی سابقہ کارکردگی دیکھ کر ان کا تقرر کیا، اگر احتساب چاہتے ہیں تو مجھ سے شروع کریں اور ہر ممبر بتائے جب سیاست میں آیا تھا تو اس کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے، اس ہاؤس سے احتساب شروع کیا جائے اور یہ بھی بتائیں کہ اس ہاؤس کے ممبران کتنا ٹیکس دیتے ہیں، ادارے آپ کے پاس ہیں اور ریکارڈ آپ کے پاس ہیں، پتہ کریں کونسی کرپشن ہوئی ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ کونسی کرپشن ہماری حکومت میں ہوئی، جو معیار شہباز شریف، نواز شریف اور سعد رفیق کے لیے رکھا ہے اگر وہ حکومت پر لاگو ہوئی تو 70 فیصد کابینہ ممبر اندر نہ ہوئے تو ذمہ دار میں ہوں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جو نیب آج کر رہا ہے وہ احتساب نہیں ملک کی تباہی کا راستہ ہے، آج بیوروکریٹ کام نہیں کرتے، سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق پر ساڑے 4 سو ارب کا مقدمہ بنایا اور 7 سال گزر گئے لیکن کچھ نہیں ہوا۔

داغدار لوگوں سے پاکستان کے عوام کا پیسہ واپس نہ لے سکے تو پی ٹی آئی کو حکومت کرنے کا حق نہیں:فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپوزیشن کو داغدار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان داغدار لوگوں سے پاکستان کے عوام کا پیسہ واپس نہ لے سکے تو پی ٹی آئی کو حکومت کرنے کا حق نہیں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے اظہار خیال کے بعد جب وزیر اطلاعات فواد چوہدری جواب دینے کھڑے ہوئے تو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شور شرابا کیا گیا۔(ن) لیگ کے شور شرابے پر فواد چوہدری نے کہا کہ ان کی سیاسی تربیت میں مسئلہ ہے، یہ پارٹی ضیاء نے بنائی تھی، ان کی تربیت اچھی نہیں ہوئی اس لیے دوسروں کی بات نہیں سنتے۔

ویڈیو دیکھیں:

وزیر اطلاعات کے جواب پر (ن) لیگی ارکان طیش میں آگئے اور فواد چوہدری پر جملے کسنا شروع کردیے، اس دوران ایوان میں شو شرابا بھی ہوا جب کہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف ایوان سے اٹھ کر چلے گئے۔

اپوزیشن کی جانب سے فواد چوہدری سے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا جس پر ڈپٹی اسپیکر نے وزیراطلاعات سے الفاظ واپس لینے کا کہا تو فواد چوہدری نے جواباً کہا کہ (ن) لیگ کی تربیت ٹھیک ہوئی۔