مغلیہ دور کا شاہکار، اکبری سرائےکی کہانی

مغلیہ دور کا شاہکار، اکبری سرائےکی کہانی


لاہور ( 24 نیوز ) شہر لاہور کو نہ صرف موجودہ دور بلکہ مغلیہ دور میں بھی رہائش کے حوالے سے اہم مقام حاصل تھا، مغل دور میں نہ صرف بادشاہوں نے یہاں قیام کیا بلکہ کئی امرا ا ور تاجر بھی مقیم رہے، دوسرے علاقوں سے آنیوالے شہریوں کی سہولت کیلئے مغل دور حکومت میں ایک سرائے بنائی گئی جو اکبری سرائے کے نام سے تاریخ کا حصہ بنی۔

شاہدرہ میں واقع باغ دلکشا میں قائم اکبری سرائے کی عمارت ایک سو ستر سے زائد کمروں کی وجہ سے منفرد مقام رکھتی ہے۔   کم و بیش بارہ ایکڑ رقبے پر پھیلی سرائے کے کمروں کا ایک ہی سائز ہے تاہم چاروں کونوں پر کمرے نہ صرف سائز میں بڑے ہیں بلکہ بناوٹ میں بھی مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ مورخین کہتے ہیں اس عمارت کی تعمیر کا آغازسوری خاندان کے بادشاہ اسلام شاہ سوری کے دور میں ہواتھا مگر بعد میں اکبر اعظم کے نام سے موسوم ہوگئی۔

مورخ ملا عبدالحمید لاہوری اس عمارت کو جلو خانہ روضہ کا نام دیتے ہیں، یعنی ایک ایسی عمارت جو مقبرے سے متصل ہے۔ بعد کے ادوار میں یہ سرائے ڈاک چوکی کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی، عہد انگریزی میں ان کمروں میں ریلویز کے لیے کوئلہ بھی اسٹور کیاجاتا تھا۔ حال ہی میں محکمہ آثار قدیمہ نے اس عمارت کے بہت سے حصے کی بحالی کا کام مکمل کیا ہے ۔ 

سرائے کے ایک سو ستر سے زائد کمرے اب کافی مضبوط دکھائی دیتے ہیں جس سے محکمہ توقع کررہا ہے کہ سیاحت کو فروغ ہوگا۔