اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت، واجد ضیاء کا بیان قلمبند


اسلام آباد(24نیوز) اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت نیب کے گواہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند، واجد ضیاء جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم ایک اور نو اے واپس لے گئے، جے آئی ٹی کی اصل رپورٹ عدالت میں پیش، واجد ضیاء نے جے آئی ٹی کی اصل رپورٹ نیب حکام کے حوالے نہیں کی کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کرلی گئی۔

 تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔واجد ضیاء نے جے آئی ٹی کی اصل رپورٹ والیم ایک اور نو پیش کردیا۔

احتساب عدالت میں واجد ضیاء نے اسحاق ڈار کے خلاف بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ 20 اپریل 2017 کو سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ۔ ایف آئی اے نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کےلیے میرا نام بھیجا 5 مئی کو سپریم کورٹ نے میری سربراہی میں جے آئی ٹی بنائی ٹیم میں سٹیٹ بینک سے عامر عزیز، آئی ایس آئی سے نعمان سعید شامل تھے۔  ایم آئی سے کامران خورشید ، ایس ای سی پی سے بلال رسول بھی جے آئی ٹی میں شامل تھے،

واجد ضیاء نے کہا کہ ٹیم میں نیب سے عرفان نعیم منگی بھی شامل تھے 1992 کی ویلتھ سٹیٹ منٹ کے مطابق اسحاق ڈار کے کل اثاثے 9.1 ملین روپے کے تھے 2008-9 میں اثاثوں کی مالیت 831.6 ملین روپے تک پہنچ گئی،  اسحاق ڈار کے اثاثوں میں اس عرصے کے دوران 91 گنا کا اضافہ ہوا۔

واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے 10 جولائی 2017 کو حتمی رپورٹ پیش کی اسحاق ڈار سمیت مختلف شخصیات کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ آپ نے اپنے کیس میں اسحاق ڈار کیس تک محدود رہنا ہے۔ واجد ضیاء نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ایس ای سی پی، مختلف بنکوں، ایف بی آر اور الیکشن کمیشن سے ریکارڈ حاصل کیا اسحاق ڈار برطانوی کمپنی میں پچپن لاکھ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کی وضاحت بھی نہ دے سکے ۔ 2008 میں 4.9 ملین برطانوی پاونڈ بیٹے کو قرض دیئے، بیٹے کا نام ظاہر نہیں کیا واجد ضیاء جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم ایک اور نو اے واپس لے گئے۔ 

واجد ضیاء نے خود جے آئی ٹی کی اصل رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ واجد ضیاء نے جے آئی ٹی کی اصل رپورٹ نیب حکام کے حوالے نہیں کی ہے، عدالت نے اسحاق ڈار کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی۔ بیماری کی وجہ سے نیب کے تفتیشی افسر نادر عباس کا بیان قلمبند نہ ہو سکا۔ استغاثہ کے گواہ انعام الحق اور تفتیشی افسر 14 فروری کو طلب کرلیا گیا۔