پنجاب میں سرکاری سکول کھول کر بھینسیں باندھ دی جاتی ہیں: چیف جسٹس


اسلام آباد (24 نیوز) سپریم کورٹ میں پنجاب کے سکولوں کی نجکاری سے متعلق کیس کی سماعت، کیس میں معاونت کے لیے لاہور یونیورسٹی منیجمںٹ سائنسز کے سربراہ طلب۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سکولوں کی نجکاری کے متعلق کیس کی سماعت کی گئی۔ جس میں معاونت کے لیے نیب کے سربراہ کو بھی طلب کیا گیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں سکول تو آپ کو کھولنے پڑیں گے۔ چھپڑ والے سکول نہیں چاہتے۔ سرکاری سکول کھول کر بھینسیں باندھ دی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے ایل این جی معاہدے کیخلاف شیخ رشید کی درخواست خارج کر دی

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق عمل درآمد کے لیے ہیں۔ دکھاوے کے لیے نہیں۔ اچھا کام کرنے پرتعریف بھی کریں گے۔

سیکرٹری تعلیم نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے والے متاثرہ فریق نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار کا کام صرف معلومات فراہم کرنا ہے۔ آپ نے گزشتہ سماعت پر کہا تھا ہر بچہ سکول جاتا ہے۔

لازمی پڑھیں: آرمی چیف سے پاکستان میں ترکی، ایران کے سفیروں کی ملاقاتیں

گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب کی پیشی کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کل وزیراعلیٰ پنجاب کو اہم بات کرنا بھول گیا۔ سکول تو آپ کو کھولنے پڑیں گے۔ چھپڑ والے اسکول نہیں چاہتے۔ کہتے ہیں تو بھینس بندھے سکول بھی دکھا سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں: