"پرانے لاہور کے مطبخ سے داس کلچہ"

غزل جاوید



لاہور پاکستان کا دل، زندہ د لوں کا شہر اوراسکااندرون شبِ زندہ دار۔ جگ مگاتی راتیں اور پر لطف کھابے یہاں کاخاصہ۔ سرِشام سجتیں دکانیں اور انکے گردمنڈلاتے گاہک لاہوریوں کی خوش خوراکی کا پتا دیتے ہیں۔ یوں تو مرغ چنے سے لے کربونگ پائے،ہریسہ ،نہاری، تلی مچھلی،مغز کا سالن ،دال چاول سمیت بیسیوں کھانے شہر کی پہچان ہیں۔ مگر ہم یہاں بات کریں گئے امرتسرسے لاہورآنے والی منفرد ڈش " داس کلچہ " کی۔ جوآج بھی روایتی کھانوں کا ذوق رکھنے والوں میں مقبول ہے۔

" داس کلچہ "کی تاریخ کیا ہے؟ ہمیں نہیں پتا، مگر قیامِ پاکستان سے قبل امرتسر سے آئے ہندو خاندان کے سربراہ رام داس نے اپنے نام سے کلچہ متعارف کروایا۔ چوہٹہ مفتی باقر موچی گیٹ کے علاقے سے داس کلچے کےکاروبار کاآغاز ہوااور پھر بعد کے عرصے میں داس خاندان کے لوگوں نے کلچے کی فروخت کو چونا منڈی چوک،کشمیری بازاراور دیگرجگہوں تک پھیلایا۔

" داس کلچہ " کے بارے میں عام لوگ زیادہ نہیں جانتے ہیں۔"یہ خاص کلچہ " اندرونِ لاہور کے ناشتے کا حصہ ہے۔ دیکھنے میں ذرا مختلف اور سائز میں چھوٹا اورکچھ موٹا داس کلچہ میدے کے خمیر سے تندور میں تیارکیا جاتا ہے۔تیاری کے بعد کلچہ شوارما بریڈ کی مانند نظر آتا ہے۔اسکے ساتھ چکٹرِ چنے کی طرح کے چنے اور دیگر لوازمات رکھے جاتے ہیں جن میں لونچڑے،اناردانہ چٹنی،اچار اور ساتھ سلاد شامل ہوتاہے۔ یہ سب چیزیں منفرد کھابے کی لذت کو دوبالا کردیتی ہے۔ یقین کیجیے داس کلچہ اگر اپنے تمام لوازمات کیساتھ کھاتا دیکھ لیں تویقیناً آپکا بھی دل للچااٹھے گا۔

داس کلچہ ایک مزیدار ڈش ہے۔سردیوں میں اسکی مانگ میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔یہ ہر عمر کے فرد کیے لیےپسندیدہ کھابا ہے لیکن بسا اوقات کلچے کی خوشبو کے سبب کھا کچھ لوگ اسے نظر انداز کردیتے ہیں،مگر حقیقت میں وہ غلطی کرتے ہیں۔ آج کل داس کلچہ بھاٹی گیٹ،رنگ محل ،شاہ عالم مارکیٹ، یکی گیٹ،دہلی گیٹ،موری گیٹ پر عام فروخت ہورہا ہے،جہاں سے داس کلچے کے شوقین بڑے اشتیاق سے اسے خریدتے اور اہلِخانہ،مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت کلچے کی قیمت دو سے تین روپے ہواکرتی تھی جوبلاشبہ اسوقت بہت زیادہ تھی۔ آجکل کلچہ دیگر لوازمات کیساتھ 50 روپے میں دستیاب ہے۔ داس کلچے کی قیمت بڑھنے کے باوجود اسکی مانگ کم نہیں آئی۔" داس کلچہ "کا شمارقدیم روایتی کھابوں میں ہونے کی وجہ سے ہمیشہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔بحرحال آپ جب بھی اندرونِ لاہور آئیں تواس ڈش کو ضرور کھایئں۔

یہی نہیں سوشل میڈیا کے اس دور میں اندورنِ لاہور کی روایتی ڈش آئن بھی دستیاب ہے۔ بس ہاتھ گنگن کو آرسی کیااور پڑھے لکھے کو فارسی کیا؟؟؟