قصور:گزشتہ تین سالوں کے دوران 720بچوں سے زیادتی،اغوا او رقتل کے واقعات ہوئے

قصور:گزشتہ تین سالوں کے دوران 720بچوں سے زیادتی،اغوا او رقتل کے واقعات ہوئے


قصور ، لاہور(24نیوز) قصور میں 7سالہ بچی کے اغواء، بدفعلی اور پھر قتل کی خبر نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیااور پھر پولیس کی مظاہرین سے نمٹنے کی حکمت عملی کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے ، چیف جسٹس نے سوموٹونوٹس لے لیاجبکہ ڈی پی او ذوالفقار حمید کو معطل کردیاگیا اور عسکری قیادت سمیت بیشترعہدیداروں نے تشویش کا اظہار کیاتاہم قصور کے بچے گزشتہ کئی سالوں سے ایسے واقعات کا سامنا کررہے ہیں۔
ایکسپریس ٹربیون کے مطابق زینب قتل کیس اکلوتا نہیں بلکہ گزشتہ تین سالوں کے دوران ایسے ہی 720واقعات ہوئے ہیں جبکہ 12ماہ کے دوران دوکلومیٹر کے علاقے میں بدفعلی کا پیش آنیوالا یہ 12واں واقعہ تھا۔
سماجی تنظیم کے مطابق گزشتہ سال قصور سے 129کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 34اغوا ، 23ریپ ، 17میں بدفعلی کی کوشش، 19لڑکوں سے بدفعلی ، 6اغوااور پھر بدفعلی اور چار اغواءکے بعد اجتماعی بدفعلی کے واقعات شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں 2015سب سے خطرناک سال ثابت ہواجس دوران مجموعی طورپر بچوں سے بدفعلی کے 451مقدمات درج کیے گئے جبکہ 2016 میں 141مقدمات درج ہوئے۔
واضح رہے کہ قصور میں معصوم زینب کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے جا رہی تھی،ملزم نے بچی کو زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا ،جس پرلوگ مشتعل ہو گئے اور شہر میں مظاہرے پھوٹ پڑے،آج صبح سویرے وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی مقتولہ زینب کے گھر گئے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔