معاملہ جج کا نہیں ،فیصلہ معطل کیا جائے:مریم نواز



لاہور(24نیوز) احتساب عدالت کے جج کو معطل کیے جانے پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز  کا ردعمل بھی سامنے آگیا ۔ان کا کہنا ہے کہ  معزز اعلیٰ عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کر لیا ہے۔معاملہ جج کا نہیں ،فیصلہ معطل کیا جائے۔

ٹوئٹر پر ایک بیان میں مریم نواز نے لکھا کہ اللہ کا شکر۔۔۔مگر معاملہ کسی جج کو معطل کئے جانے کا نہیں۔ اس فیصلے کو معطل کرنے کا ہے جو اس جج نے دیا،معاملہ کسی جج کو عہدے سے نکالنے کا نہیں۔ اس فیصلے کو عدالتی ریکارڈ سے نکالنے کا ہے جو اس جج نے دباؤ میں دیا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی نے مزید لکھا کہ جج کو فارغ کرنے کا واضح مطلب یہ ہے کہ معزز اعلیٰ عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کر لیا ہے اگر ایسا ہی ہے تو وہ فیصلہ کیسے برقرا رکھا جا رہا ہے جو اُس جج نے دیا؟اگر فیصلہ دینے والے جج کو سزا سنا دی ہے تو اس بےگناہ نواز شریف کو کیوں رہائی نہیں دی جارہی جس کو اسی جج  نے سزا دی؟

مریم نواز نے مزید کہا کہ اگر ایک جج Misconduct کا مرتکب پایا گیا ہے اور اسے اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے تو اس Misconduct کا نشانہ بننے والے کو سزا کیسے دی جاسکتی ہے؟"

ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ پتہ نہیں کسی کے خلاف سازش اور ظلم کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اللّہ دیکھ رہا ہے اور سب سے بڑی اور کامیاب تدبیر اللّہ ہی کی ہے۔ پوری ریاست ایک شخص سے انتقام لینے پر تلی ہوئی تھی مگر کس کو عزت دینا ہے اور کس کو ذلت، یہ فیصلے اللّہ کے ہیں۔

جج ارشد ملک کے بیان حلفی میں لگائے گئے الزامات میں رتی برابر بھی سچائی ہوتی تو دوران مقدمہ، عدالت میں نواز شریف کو کنفرنٹ کرتے اور کہتے کہ جواب دیں آپ مجھے کیوں رشوت آفر کر رہے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کو مطلع کرتے اور جج کو دباؤ میں لانے پر بھری عدالت میں گرفتاری کا حکم صادر فرماتے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer