ایک وکیل نے نو ماہ محنت کی،بدلنا آسان نہیں:نواز شریف


اسلام آباد( 24نیوز )نیب نے شریف خاندان کے ملک سے فرار کے راستے بند کرنے پرواگرام بنالیا،احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو اپنے خلاف نیب ریفرنسز کی پیروی کی غرض سے وکیل مقرر کرنے کے لیے 19 جون تک کی مہلت دے دی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی۔
سابق وزیراعظم نوازشریف آج اپنے وکیل کے بغیر احتساب عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی عدالت میں موجود تھیں،سماعت کے آغاز پر جج محمد بشیر نے نواز شریف سے استفسار کیا کہ آپ کو دوسرا وکیل رکھنا ہے یا خواجہ حارث کو ہی کہا ہے؟
ساتھ ہی جج نے کہا کہ 'ابھی تک خواجہ حارث کی کیس سے دستبرداری کی درخواست منظور نہیں کی گئی،جس پر نواز شریف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 'یہ اتنا آسان فیصلہ نہیں، ایک وکیل نے کیس پر 9 ماہ محنت کی ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں کہہ دیا تھا کہ وہ ہفتہ، اتوار کو کام نہیں کریں گے، ہم تو روز لاہور سے آتے ہیں اور سحری کرکے عدالت کے لیے روانہ ہوتے ہیں،ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ 'اب کیا24/7 کیس چلانا ہے؟ کیا ایسی کوئی اور مثال ہے؟ نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس میں 100 کے قریب پیشیاں ہو چکی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں: نیب کا شریف خاندان کیخلاف بڑا اقدام، وزارت داخلہ سے مدد مانگ لی
مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس مرحلے پر نیا وکیل مقرر کرنا ممکن نہیں،ہفتے اور اتوار کو یا عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد سماعت نہیں ہونی چاہیے، ہم پیر سے جمعہ تک اس عدالت میں پیش ہو رہے ہیں، اس وجہ سے سپریم کورٹ سے میرا ایک کیس عدم پیروی پر خارج ہوگیا جبکہ شرجیل میمن کیس میں ایک ملزم کا وکیل ہوں اور عدالت میں پیش نہ ہونے پر مجھ پر جرمانہ ہو،سماعت کے بعد احتساب عدالت نے نواز شریف کو وکیل مقرر کرنے کے لیے 19 جون تک کی مہلت دے دی، نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت بھی 19 جون کو ہی ہوگی۔
دوسری جانب ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت 14 جون تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران خواجہ حارث نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے عدالت سے اپنا وکالت نامہ واپس لینے کی درخواست کی تھی۔

احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ 'آئین توڑنے والے اور ملک میں دہشت گردی لانے والے کو ویلکم کیا جارہا ہے اور جس نے پاکستان کو اندھیروں سے نکالا، اسے ایٹمی قوت بنایا، اس کا نام ای سی ایل میں ڈالا جا رہا ہے'۔

  یہ بھی پڑھیں: چودھری نثار کا آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔