کراچی سے اغوا ہونیوالی طالبہ پاک بھارت بارڈر کے قریب سے بازیاب

کراچی سے اغوا ہونیوالی طالبہ پاک بھارت بارڈر کے قریب سے بازیاب


کراچی ( 24 نیوز ) اندرون سندھ کا اغوا کار گروہ شہر قائد میں سرگرم، کراچی سے اغوا کے بعد اندرون سندھ میں کمسن لڑکیوں کو فروخت کرنے کا انکشاف، نیوکراچی سے 24 روز قبل اغوا ہونے والی مدرسہ کی طالبہ کو پاک بھارت بارڈر کے قریب سے بازیاب کرا لیا گیا۔

24 نیوز کے مطابق اندرون سندھ کا اغوا کار گروہ شہر قائد میں سرگرم ہو چکا ہے۔ کراچی سے اغوا کے بعد اندرون سندھ سے بھی کمسن لڑکیوں کو فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیوکراچی سے 24 روز قبل اغوا ہونے والی مدرسہ کی طالبہ کو پاک بھارت بارڈر کے قریب سے بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: داعش پاکستان میں کم عمر لڑکیوں کی ذہن سازی کرتی ہے؟ گرفتار دہشتگرد نے ایپلی کیشن بھی بتا دی 

14 سالہ ریما کو سینٹرل انویسٹی گیشن پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بازیاب کرایا۔ پولسیس کے مطابق ریما کو نیو کراچی سے 17 مئی کو رکشہ سوار ملزمان نے اغوا کیا گیا تھا۔ ریما کو بے ہوش کر کے کراچی سے باہر منتقل کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان نے ریما پر تشدد کیا اور اس جبری نکاح بھی کیا۔ اغواکاروں نے ریما کو گھوٹکی، میرپور اور پھر کمرو منتقل کیا۔ جس مقام سے ریما کو بازیاب کرایا گیا وہاں قانون نام کی چیز نہیں تھی۔ اغواکاروں نے ریگستان میں جھونپڑیاں قائم کی ہوئی تھیں۔

پڑھنا نہ بھولیں: کراچی میں داعش گھس آئی، اہم دہشتگرد پکڑا گیا، ایف آئی اے کے سامنے سب راز اُگل دیئے 

اس حوالے سے پولیس کا مزید کہنا ہے کہ اغواکاروں نے ایک عائشہ نامی لڑکی کو بھی اغوا کر رکھا تھا جس کو ملزمان لے کر فرار ہوئے۔ ملزمان کی تصویر اور سی ڈی آر ریکارڈ حاصل کر لیا ہے۔ بازیاب ہونے والی ریما کا آج میڈیکل بھی کرایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اغوا کا مقدمہ مغوی ریما کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مغویہ کی بازیابی کے وقت ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ سی ڈی آر ریکارڈ کے مطابق ملزمان کے نام جمن شاہ اور خیرمحمد ہیں۔