بجٹ میں غریب کیلئے کیا ہے؟

مناظرعلی

بجٹ میں غریب کیلئے کیا ہے؟


ویسے توبجٹ کواعدادوشمارکاگورکھ دھندہ ہی کہاجاتاہےلیکن اس کے نتیجے میں اگرکسی غریب کافائدہ ہوتوپھریقیناحکومت کیلئے یہ امرقابل ستائش ہوگا،تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کرنے سے قبل ہی ماہرین اورعوام غیرمطمئن تھے اورانہیں جوخدشہ تھابجٹ تقریرسننے کے بعدواضح ہوگیا،تحریک انصاف کااپناتخلیق کردہ نعرہ"گونوازگو"۔۔گونیازی گو"کی شکل اختیارکرکے انہیں کے کانوں میں گونجتارہا،مچھلی منڈی کامنظرپیش کرتی اسمبلی میں موجودحکومتی واپوزیشن ارکان کوبجٹ تقریرکی سمجھ آئی نہ آئی مگراپوزیشن نے اسے عوام دشمن اورحکومتی ارکان نے عوام دوست قراردیدیاجیسا کہ میں نے اپنے پچھلے بلاگ میں لکھاتھا کہ غریب کیلئے بجٹ میں کچھ ہو،نہ ہویہی ہوگا۔۔اوروہی ہواجوہرسال ہوتاآیاہے۔۔اب ذرا جائزہ لیتے ہیں کہ کیاواقعی غریب کیلئے اس بجٹ میں کوئی اچھی خبرہے؟

انسان امیرہویاغریب خوراک کے بغیرزندہ نہیں رہ سکتااوریہی اس کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ اس کے کچن کاچولہاجلتارہا،تقریباً 50 فیصد خسارے کے اس بجٹ میں 11 کھرب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں جن سے چینی، کوکنگ آئل، سیگریٹ، گیس اور گاڑیوں سمیت متعدد اشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔چینی ہرگھرمیں استعمال ہوتی ہے اس کیلئے امیری غریبی کی تفریق نہیں،سیگریٹ پینے والے ویسے تودونوں طبقات میں موجود ہیں مگراسے خوراک نہیں کہہ سکتے اوراس کے مہنگاہونے پراعتراض بلاجواز ہوگا،گیس ہرگھرکی ضرورت ہے جومہنگی ہونے سے غریب مزیدپریشان ہوگا،گاڑیاں مہنگی ہونے سے غریب ڈائریکٹ تونہیں مگران ڈائریکٹ متاثرہوگا جب اسے سفرکرناہے توپھرگاڑی کااستعمال اس کی ضرورت ہے،کسی نہ کسی طرح سفری سہولت بھی مزیدمہنگی ہوگی جوپہلے بھی دن بدن مہنگی ہورہی تھی۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں گھی، دودھ ، خشک دودھ ، کریم مہنگی کر دی گئی، سیمی پراسیس اور پکے ہوئے چکن، مٹن، بیف، مچھلی پر بھی سیلز ٹیکس بڑھا دیا گیا۔پھرہم کیسے بجٹ کو عوام دوست قراردیں؟وہ کون سا غریب ہے جس کے گھرمیں ان چیزوں کااستعمال نہیں ہوتا،کم ازکم گھی،دودھ اورگوشت کوتوکسی صورت نہیں نکالا جاسکتا۔ویسے توکرپشن کے معاملات کولے کر جومقدمات چل رہے ہیں اپوزیشن حکومت کیخلاف پہلے ہی صف آراء ہے مگربجٹ کے معاملے میں توعوام بھی فی الوقت حکومت کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھ سکتی بلکہ وہ آگ بگولہ ہوچکی ہےجس کااظہارسڑکوں پر ہو،نہ ہو سوشل میڈیا پرزوروشور سے ہورہاہے۔۔یہ الگ بات ہے کہ ایک عام آدمی جودیہاڑی کرکے یاچھوٹی موٹی نوکری کرکے اپناکچن چلارہاہے وہ حکومت کیخلاف احتجاج کرکے اپنا ایک دن ضائع نہیں کرسکتامگرسڑک پرنہ نکلنے کایہ مطلب نہیں کہ وہ اس بجٹ سے خوش ہے،سارا سال غریبوں کی بات کرنے والے حکومتی ارکان چاہے اس حکومت کے ہوں یاپھرپچھلے ادوارمیں،،نجانے ہرسال بجٹ میں غریبوں کوکیوں بھول جاتے ہیں،کیوں نہیں ایسے اقدامات کیے جاتے کہ جس سے عام آدمی متاثرنہ ہو،کیاکھال اتارنے کیلئے یہی ایک طبقہ رہ گیاہے؟کیاایساممکنہ نہیں تھا کہ جہاں آپ نے گریڈسترہ سے بڑے افسران کی تنخواہیں نہیں بڑھائیں اورٹیکس بھی بڑھایاہے وہیں آپ حکومتی ارکان کواس بات پرراضی کرتے کہ جب تک ملک بحران سے نہیں نکل جاتاکوئی بھی حکومتی عہدیدارخزانے سے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کرے گا،سوچیں اگرحکومت یہ کڑوا گھونٹ پی لیتی توپھراربوں روپے کی بچت ہوتی،وہی پیسہ آپ غریب کوسبسڈی دے دیتے،ان کی خوراک میں،بچوں کی تعلیم میں،صحت کی سہولیات میں اورپرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی مزیدتنخواہیں بڑھانے کیلئے اقدامات کرنے میں۔۔جوکم ازکم تنخواہ مقررکی گئی ہے مجھے کوئی بھی بڑے سے بڑاماہرمعیشت اس رقم میں کسی گھرکابجٹ بناکردکھادے، کرائے کے مکان میں رہنے والاشخص سب سے پہلے کم وبیش پندرہ ہزار روپے کرایہ دے گا،بجلی،پانی،گیس،کوڑااٹھانے والا،سکیورٹی گارڈ،،،یہ ادائیگی چاہے آپ بھوکے مرجائیں ہرصورت کرناہی ہوگی۔اس کے بعدبچوں کی فیس،کچن میں دال روٹی، ادویات،مجبوری کی صورت میں سفر،خوشی غمی میں اخراجات،بات کہاں کی کہاں پہنچ جائے گی اورآپ کم سے کم تنخواہ 17500 روپے کرنے کی تجویزدے کرعوام پرکون سااحسان کررہے ہیں؟اتنے پیسے میں توغریب کامردہ بھی دفن نہیں ہوتا،زندگی گزارنے کیلئے توبڑے پاپڑبیلناپڑتے ہیں،ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کراعدادوشماربنادیناآسان ہے،حقیقی معنوں میں عوام کی ضروریات کومدنظررکھنااورپھراس کیلئے اقدامات کرنابہت مشکل ہےجس کے لیے غریب جس معیارپرزندگی گزاررہے ہیں وہاں اترکردیکھناپڑتاہے۔

وزیراعظم صاحب تقریربہت اچھی کرتے ہیں،وہ کرپشن کے خاتمے کیلئے ظاہری طوریرپرنیت کے بھی صاف دکھائی دیتے ہیں،وہ قوم کاپیسہ لوٹنے والوں کوکڑی سے کڑی سزادینے کیلئے دن رات ایک بھی کررہے ہیں لیکن جناب ایک غریب سے ذراپوچھیں کہ نوازشریف کوجیل میں ڈالنے سے آپ خوش ہیں،آصف علی زرداری کوپکڑنے سے آپ کوسکون ملاہے؟حمزہ شہبازکوگرفتارکرنے سے آپ کے کلیجے کوٹھنڈپہنچی ہے؟الطاف حسین سمیت دیگربڑے اگرسلاخوں کے پیچھے ہوں گے توآپ کاکچن آرام سے چل جائے گا؟؟؟۔یقیناجواب ہاں میں نہیں ہوگا۔۔ملک کے مستقبل کیلئے خواہ یہ فیصلے اوراقدامات ایک طویل عرصے کے بعد سودمندثابت ہوجائیں گے مگرکچھ اقدامات قلیل المدتی بھی توضروری ہیں کہ جن سے عام آدمی کی سانسیں چلتی رہیں ورنہ تومجبورآدمی گھٹ گھٹ کامرجائے گایاپھرہتھیاراٹھاکرچھینا جھپٹی شروع کردے گا،غالباشیخ سعدی نے کہاتھا کہ مغلوب بلی بھی ایک دن شیرپرحملہ کردیتی ہے کیوں کہ اس کے پاس یہی آخری آپشن ہوتی ہے اوراس وقت عوام بھی کسی مغلوب بلی کی طرح نظرآرہی ہے۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔