ٹیکس دینے سے کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہوجائے: مشیر خزانہ

ٹیکس دینے سے کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہوجائے: مشیر خزانہ


اسلام آباد(24نیوز) مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا۔انہوں نے کہا کہ اب کسی صورت ٹیکس چوروں کو نہیں بخشا جائے گا، اگر ٹیکس دینے سے کوئی ناراض ہوتا ہے توناراض ہوجائے۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کی قرضوں کی انکوائری کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے قرضوں کا استعمال کیا ہے تو خود احتساب کے لیے پیش کرنا چاہیئے, حکومت کو احتساب کے لیے تیار ہونا چاہیئے ہم احتساب کے لیے تیار ہیں.

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ پاکستان میں ہر آدمی کو ٹیکس دینا ہوگا، ہمارے ملک میں امیر لوگ ٹیکس نہیں دے رہے، اگر کوئی ٹیکس دینے سے ناراض ہو گا تو ہم اسے ناراض کریں گے، لیکن کسی صورت میں ٹیکس چھوٹ اب کسی کو نہیں دی جائے گی، امیروں کا ٹیکس نہ دینا قابل قبول بات نہیں ہے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آئندہ بجٹ میں سول اور فوجی اخراجات کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے,  سول حکومت کے اخراجات کا بجٹ 431 ارب روپے کیا گیا ہے۔گزشتہ برس سول حکومت کے اخراجات کا بجٹ 460 ارب روپے تھا۔  پاک فوج کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا دفاعی بجٹ گذشتہ برس کی سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔

حفیظ شیخ نے واضح کیا کہ برآمدی شعبہ کو زیرو ریٹنگ کی سہولت جاری رہے گی تاہم مقامی فروخت پر ٹیکس لگے گا ۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ لگژری اشیاء پر اضافی ٹیکس لگایا گیا ہے کابینہ اراکین کی تنخواہوں میں کمی کی گئی ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔