صادق سنجرانی چیئرمین، سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب, حلف اُٹھا لیا


اسلام آباد(24نیوز)سینیٹ آف پاکستان کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا بیڑا کنارے لگ چکا ہے۔ صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ جبکہ سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو چکے ہیں۔

پہلی شکست حکومت اتحاد کو اس وقت ہوئی جب راجا ظفر الحق ووٹو ں کی دوڑ میں صادق سنجرانی سے پیچھے رہ گئے۔ انھوں نے 57 ووٹ حاصل کیے جبکہ راجا ظفر الحق کے حصہ میں 46 ووٹ آئے۔ 

اپوزیشن اتحاد نے ڈپٹی چیئرمین کے لیے بھی میدان مار لیا۔ حکومتی اتحاد کو دوسری شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے۔

 فیصلہ آج ایوان بالا میں رائے شماری کے بعد ہوا،نئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب سے پہلے تمام سینیٹرز اپنے عہدے کا حلف اٹھایا، جس کے بعد ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ مسلم لیگ ن کے حافظ عبدالکریم نے پہلا ووٹ ڈالا۔جنرل(ر)عبدالقیوم نے دوسرا ووٹ ڈالا،عثمان کاکڑ،گیان چند،ہارون اختر،گل بشریٰ،امام الدفن،اسلام الدین،جان کینتھ ولیم نے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔جے یو آئی کے مولانا عطاءالرحمن غیر حاضر ہیں،مولانا عبدالغفور غیر حاضر رہنے کے بعد ایوان میں پہنچے -

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ممنون حسین نے سردار یعقوب خان ناصر کو پریزائیڈنگ افسر مقرر کردیا جو اجلاس کی صدارت کریں گے،آج ہونے والے سینیٹ اجلاس میں پہلے نومنتخب ارکان کی حلف برداری ہوئی ،سینیٹر سردار یعقوب ناصر نے نو منتخب سینیٹرز سے حلف لیا۔جس کے بعد دوپہر 12 بجے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے اور سہ پہر 2 بجے کے بعد جانچ پڑتال کے بعد حتمی امیدواروں کا اعلان ہوا، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے خفیہ رائے شماری 4 بجے شروع ہوئی ۔جس کے لیے سیاسی جماعتوں اور آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے سینیٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھئے: چیئرمین سینیٹ: عبدالقدوس بزنجو نے امیدواروں کا اعلان کر دیا
اراکین چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے پولنگ بوتھ میں جا کر اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالا۔ دو یا 2 سے زائد امیدواروں میں مقابلہ پر کسی ایک امیدوار کو 53 ووٹ لینے کی شرط رکھی گئی تھی۔۔پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد پریزائڈنگ افسر نومنتخب چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کےناموں کا اعلان کیا۔ جس کے بعد پریزائڈنگ افسر نے پہلے چیئرمین سینیٹ اور پھر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے حلف لیا۔

یاد رہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز آج مدت پوری ہونے کے بعد ریٹائرڈ ہوگئے ہیں سندھ اور پنجاب سے 12،12، بلوچستان اور خیبرپختون خوا سے 11،11 ، اسلام آباد سے 2 اور فاٹا سے 4 سینیٹرز آج ریٹائر ہوگئے جس کے بعد ایوان بالا کی 15 قائمہ کمیٹیاں اور 15 خصوصی کمیٹیوں سمیت 61 کمیٹیاں بھی تحلیل ہوگئیں،ایوان بالا سے رخصت ہونے والوں میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)کے ایم حمزہ، ظفر اللہ ڈھانڈلہ، نثار محمد، سعود مجید، ذوالفقار علی کھوسہ، آصف کرمانی، اسحاق ڈار، نذہت صادق اور کامران مائیکل شامل ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رضا ربانی، اعتزاز احسن، فرحت اللہ بابر، تاج حیدر، احمد حسن، مرتضی وہاب، کریم خواجہ، محمد یوسف، مختار عاجز دھامرا، سیف اللہ مگسی، عثمان سیف اللہ خان، فتح محمد حسنی، روزی خان کاکڑ، خالدہ پروین، روبینہ خالد، سحر کامران، اور ہری رام شامل ہیں۔،پیپلز پارٹی کے سینیٹر سیف اللہ بنگش ریٹائرمنٹ سے قبل ہی یکم فروری کو انتقال کر گئے تھے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے داود خان اچکزئی، باز محمد خان ،شاہی سید، الیاس بلور، زاہدہ خان جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے اعظم سواتی بھی ریٹائر ہونے والوں میں شامل ہیں،بلوچستان نیشنل پارٹی کے اسرار اللہ خان زہری اور نسیمہ احسان جب کہ جے یو آئی ( ف) کے حافظ حمد اللہ، طلحہ محمود اور مفتی عبدالستار بھی ایوان بالا سے رخصت ہوگئے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے طاہر مشہدی، مولانا تنویر الحق تھانوی، نسرین جلیل، فروغ نسیم جبکہ مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا، سعید الحسن مندوخیل، روبینہ عرفان ،مشاہد حسین بھی ریٹائر ہونے والوں میں شامل ہیں،فاٹا سے آزاد امیدوار ہدایت اللہ، ہلال الرحمان، ملک نجم الحسن، صالح شاہ، پنجاب سے آزاد امیدوار محسن خان لغاری، فنکشنل لیگ کے مظفر حسین شاہ بھی ریٹائر ہو گئے۔
میاں رضا ربانی، فروغ نسیم ، ہدایت اللہ، ہلال الرحمان ، اسحاق ڈار، طلحہ محمود،روبینہ خالد، نزہت صادق آصف کرمانی، کامران مائیکل، اعظم سواتی، مظفر حسین شاہ اور مشاہد حسین سید بطور سینٹر اپنی مدت پوری کرنے کے بعد دوبارہ سینٹر منتخب ہوچکے ہیں۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ ن نے چیئرمین سینیٹ کیلئے راجہ ظفر الحق کو امیدوار نامزد کیا  گیا تھا جبکہ عثمان کاکڑ ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار نامزد کیے گئے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف نے بلوچستان سے آزاد سینیٹر صادق سنجرانی کو نامزد کیا تھا۔ پیپلز پارٹی اپنا امیدوار نہیں لائی، اس نے صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کیا تھا-

 پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کیا تھا،اسلام آباد میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے ہمارا امیدوار سلیم مانڈوی والا ہو گا اور ہمارے امیدوار مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کا مقابلہ کریں گے، چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ رضاربانی کے لیے 2018 کے الیکشن میں دوسرا پلان ہے اور اپنے سینیٹرز کی تعداد بتانا چیٹنگ ہو گی اور ن لیگ کو معلوم ہو جائے گا،اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے بلوچستان کے لیے قربانی دینے کی تاریخ میں رقم کر دی ہے۔

خیال رہے کہ سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز کی تعداد 13 اور پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کی تعداد 20 ہے اور انہیں بلوچستان سے منتخب ہونے والے 8 آزاد سینیٹرز کی حمایت بھی حاصل تھی،ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ کیلئے فاٹا کے سینیٹرز اور ایم کیو ایم کے میاں عتیق نے اپوزیشن کے نامزد کردہ امیدوار صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کردیا تھا۔
جماعت اسلامی نے مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ ظفر الحق،ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے امیدوار صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کا اعلان کیا ،حکومتی امیدوار کو اس وقت 52سینیٹرز کی حمایت حاصل تھی جبکہ اپوزیشن کے پچاس سینیٹرز حامی تھی۔ ایم کیو ایم کی ایک سینیٹر نزہت اس وقت منظر عام سے غائب اور اسلام آباد میں موجود تھیں ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ راجہ ظفر الحق کو ہی ووٹ دیں گی،مسلم لیگ ن نے اے این پی کی حمایت کا بھی دعویٰ کیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے پاس54ووٹ ہیں۔

واضح رہے پاکستان کے ایوان بالا میں تمام صوبوں کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی حاصل ہوتی ہے،کل 104سیٹیں ہیں،جن میں صوبوں کی 23،23،اسلام آباد کی چار اور فاٹا کی آٹھ نشستیں ہیں۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں