انقلابی شاعر حبیب جالب کو ہم سے بچھڑے ہوئے 25 برس بیت گئے


لاہور(24نیوز) غربت میں جنم لینے والے اور ساری عمر ظلم کے خلاف ڈٹے رہنے والے انقلابی شاعر حبیب جالب کو ہم سے جدا ہوئے 25 برس بیت گئے، ان کا کلام آج بھی زندہ ہے۔

حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو متحدہ ہندوستان کے ضلع ہوشیار پور کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اینگلو عریبک ہائی اسکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ انہوں نے 15 سال کی عمر سے ہی مشقِ سخن شروع کردی تھی۔تقسیمِ ہند کے بعد وہ کراچی آگئے اور کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا۔ حبیب جالب نے 1956 میں لاہور میں رہائش اختیار کی۔ 

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر نے سٹیج اداکارہ ندا چودھری کی فنکاری پکڑ لی

حبیب جالبؔ نے آغاز سے ہی اپنی مترنم آواز میں اپنا منفرد اور انقلابی کلام گا کر عوام کے دلوں میں گھر کر لیاچوں کہ اُن کی شاعری کا پس منظر سیاسی اور سماجی صورت حال تھی، اس لیے بہت جلد اُن کی شہرت کا آفتاب پوری آب و تاب سے چمکنے لگا۔ وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے رکن تھے۔1954ء میں جب اس پارٹی پر پابندی لگا دی گئی، تو اُنھوں نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ ) میں شمولیت اختیار کر لی۔اپنے نظریات کی وجہ سے اُنھیں متعدد بار قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، لیکن اُن کے پایۂ استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ جالبؔ کو اصل شہرت ایوب خان دَور سے ملی۔ اُس دَور میں اُن کی نظم ’’دستور ‘‘بہت مشہور ہوئی اور اس نظم کی شہرت اب بھی قائم ہے۔اُنھوں نے دراصل ایوب خان کے 1962ء کے دستور کو ہدف تنقید بنایا تھا۔ وہ جذبات سے بپھرے ہوئے لوگوں کے سامنے جب اپنی شعلہ بار نظمیں پڑھتے، تو ایک عجیب و غریب سماں پیدا ہو جاتا۔ جن میں سے چند اشعار بہت مشہور ہیں۔

کہیں گیس کا دھواں ہے

کہیں گولیوں کی بارش ہے

شب عہد کم نگاہی

تجھے کس طرح سراہیں

جالبؔ، ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے ،لیکن اُنھوں نے اپنی انا کو کبھی قربان نہیں ہونے دیا۔ بھٹو صاحب نے ایک دفعہ اُنھیں پیپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی، تو اُنھوں نے بے ساختہ کہا ’’کیا سمندر بھی کبھی دریا میں گرتے ہیں‘‘اپنی صاف گوئی ا ور بیباکی کی سزا اُنھیں بھٹو دَور میں بھی ملی اور وہ اُس دَور میں بھی کچھ عرصے کے لیے پابند سلاسل رہے، لیکن جب 1979ء میں بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی، تو حبیب جالب بہت ملول ہوئے اور اُنھوں نے کہا

ٹوٹا ہے کہاں اس کا جادو

 اک نعرہ بنا ہے اس کا لہو

 ثابت ہوا دھڑکن دھڑکن پر وہ شخص حکومت کرتا تھا

 لڑتا تھا وہ اپنے جیسوں سے ہم سے تو محبت کرتا تھا

اس کے بعد جنرل ضیاء کے دَور میں بھی وہ سچائی کی شمع جلاتے رہے اور پابند سلاسل رہے۔اس زمانے میں بھی اُن کی کئی نظمیں بہت مقبول ہوئیں۔جب 1986ء میں بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد واپس آئیں تو اس موقع پر حبیب جالب نے کہا

حال اب تک وہی ہیں فقیروں کے

دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

ہر بلاول ہے دیس کا مقروض

پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

 حبیب جالب نے جو دیکھا اور محسوس کیا، نتائج کی پرواہ کیے بغیر اس کو اپنے اشعار میں ڈھال دیا اور جو لکھا وہ زبان زدِ عام ہوگیا۔

اُن کی نظموں کے پانچ مجموعے برگِ آوارہ، سرمقتل، عہدِ ستم، ذکر بہتے خون کا اور گوشے میں قفس کے شائع ہوچکے ہیں۔ حبیب جالب درباروں سے صعوبتوں اور کچے گھروں سے چاہتیں سمیٹتے ہوئے 12مارچ 1993 کو 65 برس کی عمر میں اس جہان فانی سے تو رخصت ہو گئے  تاہم آج بھی ان کا ہر شعر مظلوم کے دل کی آواز ہے۔

قتیل شغائی ان کے بارے میں لکھتے ہیں:

اپنے سارے درد بھلا کر اوروں کے دکھ سہتا تھا

ہم جب غزلیں کہتے تھے وہ اکثر جیل میں رہتا تھا

آخر چلا ہی گیا وہ روٹھ کر ہم فرزانوں سے

وہ دیوانہ جس کو زمانہ جالب جالب کہتا تھا