متحدہ مجلس عمل،دل کے ارمان دل ہی میں رہ گئے

متحدہ مجلس عمل،دل کے ارمان دل ہی میں رہ گئے


اسلام آباد (24نیوز)سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتیں بھی بدلتے ہوئے سیاسی حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جے یو آئی (ف)ایک بار پھر متحدہ مجلس عمل کی بحالی کیلئے کوشاں ہے جسے اندازہ ہوچکا ہے کہ اتحاد کے بغیر اس کی اہمیت ویسی نہیں جیسی مجلس عمل میں رہتے ہوئے تھی، متحدہ مجلس عمل کی بحالی کیلئے اجلاس پر اجلاس ہورہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے،تمام جماعتیں اپنے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں۔

سینیٹ،مسلم لیگ ن اپنے امیدوار میدان میں لے آئی
خیال کیا جاتا ہے کہ اس اتحاد کا نقصان بھی اسی جے یو آئی (ف)کے رویے کی وجہ سے ہوا ہے،اس اتحاد کو باقاعدہ ختم نہیں کیا گیا تھا بلکہ غیر فعال ہوگیا تھا،شایداس اتحاد میں شامل بڑی جماعتیں جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف )کی انائیں اس کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار بھی ہیں۔
اسی سلسلے میں متحدہ مجلس عمل کا اہم اجلاس اسلام آباد میں ہوا ہے،جس میں تمام جماعتوں کے سربراہوں اور نمائندوں نے شرکت کی ہے،اجلاس کے شرکاءکسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں،ایم ایم اے سربراہ کے لیے مولانا فضل الرحمان کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا۔
ذرائع آج ہونے والے اجلاس میں سربراہ کے انتخاب سمیت اہم فیصلے متوقع تھے ،کتاب کے انتخابی نشان کے حصول کے لیے متفقہ درخواست کی تیاری کا فیصلہ بھی متوقع تھا،،، اجلاس کا دوبارہ بلائے جانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔