سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کے بارے میں فیصلہ سنادیا


اسلام آباد(24نیوز)سابق وزیر خزانہ اور نو منتخب سینیٹر اسحاق ڈار کا مصیبتیں پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہیں وہ آج اپنی سینیٹ رکنیت کا حلف بھی نہیں اٹھا سکے ہیں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسحاق ڈار کے بارے میں ضمنی ریفرنس پر فیصلہ سنادیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔ضمنی ریفرنس میں نامزد تین میں سے دو ملزمان منصور رضا رضوی اور نعیم محمود نے آج فرد جرم عائد نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مبہم اور غیر واضح دستاویزات کی بنیاد پر فرد جرم عائد نہ کی جائے، جس پر عدالت نے ملزمان کی درخواست پر نیب سے جواب طلب کیا تھا۔ ملزمان منصور رضا رضوی اور نعیم محمود کے وکیل قاضی مصباح الحسن نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نیب کی فراہم کردہ ریفرنس کی کاپیوں میں کئی صفحات غیر واضح ہیں جبکہ کچھ صفحات غیرملکی زبان میں ہیں، جن کا ترجمہ فراہم نہیں کیا گیا۔

نہال ہاشمی ایک بار پھر پھنس گئے
وکیل مصباح الحسن کا کہنا تھا کہ دستاویزات غیر واضح ہوں گی توعدالت انصاف اور ہم دفاع کیسے کریں گے؟ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق عدالتی زبان میں دستاویزات کی واضح کاپی فراہم کی جاتی ہے۔دوسری جانب پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق نے موقف اختیار کیا کہ یہ درخواست تاخیری حربے کے لیے پیش کی گئی۔ عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ بعدازاں فیصلہ سناتےہوئے عدالت نے ملزمان نعیم محمود اور منصور رضا کی نیب کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات پر اعتراضات مسترد کرتے ہوئے ملزمان کی جانب سے فرد جرم عائد نہ کیے جانے کی درخواست خارج کردی۔ تینوں ملزمان پرکل فرد جرم عائد کی جائے گی۔

سینیٹ،مسلم لیگ ن اپنے امیدوار میدان میں لے آئی
احتساب عدالت نے ملزمان نعیم محمود اور منصور رضا کی نیب کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات پر اعتراضات مسترد،،، احتساب عدالت نے ملزمان کی جانب سے فرد جرم عائد نہ کیے جانے کی درخواست خارج کردی، تینوں ملزمان پرکل فرد جرم عائد کی جائے گی۔
جبکہ دوسری طرف سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کیخلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں مفرور قرار دیا ہے،عدالت نے ان کی بیماری کے تمام سرٹیفکیٹس بھی مسترد کردیے ہیں۔