سپریم کورٹ نےچئیرمین نیب کو طلب کرلیا


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ نے جنسی ادویات کی فروخت کےخلاف کیس میں ڈریپ کو نوٹس جاری کرنے پر ڈپٹی چیئرمین نیب   سے جواب طلب کرلیا۔

 چیف جسٹس نے نیب ڈریپ کے خلاف کاروائی کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا ،چیف جسٹس نے مزید کہا اگر ہماری اجازت کے بغیر ڈریپ کے خلاف ایکشن لیا تو چھوڑیں گے نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا سرکار دیانتداری سے کوئی کام کرے تو سارے اس کے خلاف مل جاتے ہیں، پراسیکیوٹر جنرل نیب خود عدالت میں پیش ہوں، عدالت ڈریپ افسران کو ہراساں کرنے پر ڈی جی ایف آئی اے 15روز میں تحقیقات کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے جواب سے مطمئن نہ ہوا تو چیرمین نیب کو نوٹس جاری کریں گے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ فیکٹری سیل کردی گئی ہے، فیکٹری مالک کا ریمانڈ آج ختم ہورہا ہے۔ فیکٹری مالک کے وکیل نے کہا کہ فیکٹری سے کونسی ادویات لی گئیں میرا کوئی نمائندہ وہاں موجود نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو انسپکشن سے بچنے کے لیے بجلی بند کردی۔ وکیل فیکٹری نے کہا کہ میری غیر موجودگی میں چھاپہ مار کر فیکٹری سیل کی گئی۔

 چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہماری اجازت کے بغیر نیب نے ڈریپ کو نوٹس کیوں دیا؟ عدالتی کاروائی میں مداخلت کی گئی، ،نوٹس کو فوری طور پر واپس لیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انکوائری کرتے ہیں رپورٹ دیں، نیب کے جس شخص نے نوٹس دیا ،اسے معطل کریں، ،اس بات کو چیئرمین نیب کے نوٹس میں لائیں، ،چیئرمین نیب کو ہماری طرف سے تحفظات سے آگاہ کریں، ہم دیکھتے ہیں نیب اور ایف آئی اے کس طرح ہراساں کرتے ہیں۔ عدالت 15دن میں انکوائری رپورٹ دیں چیف جسٹس عدالت نے کیس سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے چئیرمین نیب کو طلب  کر لیا۔

یاد رہے کہ جاوید اقبال بطور جج جسٹس شاقب نثار کے سینیئر رہ چکے ہیں۔