اپوزیشن اتحاد کی جیت، صادق سنجرانی نئے چیئرمین سینیٹ منتخب


اسلام آباد(24نیوز)سینٹ کا چیئرمین کون ؟سینیٹرز نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے،نئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب سے پہلے تمام سینیٹرز اپنے عہدے کا حلف اٹھایا،وقفے کے بعد خفیہ رائے شماری ہوئی. 103 سینیٹرز نے اپنا اپنا ووٹ ڈالا۔ 

تفصیلات کے مطابق چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب مکمل ہوگیا ہے، چیئرمین سینیٹ کے لیے اپوزیشن اتحاد  کی جانب سے صادق سنجرانی جبکہ حکومتی اتحاد  کی جانب سے راجہ ظفرالحق  مد مقابل تھے۔

صدر مملکت ممنون حسین نے سردار یعقوب خان ناصر کو پریزائیڈنگ افسر مقرر کردیا جنہوں اجلاس کی صدارت کی اور رائے شماری کا عمل مکمل کروایا،آج ہونے والے سینیٹ اجلاس میں پہلے نومنتخب ارکان کی حلف برداری ہوئی ،سینیٹر سردار یعقوب ناصر نے نو منتخب سینیٹرز سے حلف لیا۔جس کے بعد دوپہر 12 بجے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے خفیہ رائے شماری 4 بجے ہوئی جس کے لیے سیاسی جماعتوں اور آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے سینیٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

سینیٹ کے 103 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیا جن میں سے 57 اراکین نے صادق سنجرانی کو  جبکہ 47 اراکین نے راجہ ظفرالحق کو ووٹ ڈالا۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ انتخاب، کب کیا ہوا؟

اراکین چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے پولنگ بوتھ میں جا کر اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالے، پریزائڈنگ افسر پہلے چیئرمین سینیٹ اور پھر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے حلف لیں گے،ایوان بالا کے ارکان نے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ ظفر الحق کو چیئرمین اور عثمان کاکٹر کو ڈپٹی چیئرمین اپوزیشن کے امیدوار صادق سنجرانی کو چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا کو ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لیے کھڑا کیا تھا۔

یاد رہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز آج مدت پوری ہونے کے بعد ریٹائرڈ ہوگئے ہیںسندھ اور پنجاب سے 12،12، بلوچستان اور خیبرپختون خوا سے 11،11 ، اسلام آباد سے 2 اور فاٹا سے 4 سینیٹرز آج ریٹائر ہوگئے جس کے بعد ایوان بالا کی 15 قائمہ کمیٹیاں اور 15 خصوصی کمیٹیوں سمیت 61 کمیٹیاں بھی تحلیل ہوگئیں،ایوان بالا سے رخصت ہونے والوں میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)کے ایم حمزہ، ظفر اللہ ڈھانڈلہ، نثار محمد، سعود مجید، ذوالفقار علی کھوسہ، آصف کرمانی، اسحاق ڈار، نذہت صادق اور کامران مائیکل شامل ہیں،پیپلز پارٹی کے رضا ربانی، اعتزاز احسن، فرحت اللہ بابر، تاج حیدر، احمد حسن، مرتضی وہاب، کریم خواجہ، محمد یوسف، مختار عاجز دھامرا، سیف اللہ مگسی، عثمان سیف اللہ خان، فتح محمد حسنی، روزی خان کاکڑ، خالدہ پروین، روبینہ خالد، سحر کامران، اور ہری رام شامل ہیں،پیپلز پارٹی کے سینیٹر سیف اللہ بنگش ریٹائرمنٹ سے قبل ہی یکم فروری کو انتقال کر گئے تھے۔عوامی نیشنل پارٹی کے داؤد خان اچکزئی، باز محمد خان ،شاہی سید، الیاس بلور، زاہدہ خان جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے اعظم سواتی بھی ریٹائر ہونے والوں میں شامل ہیں،بلوچستان نیشنل پارٹی کے اسرار اللہ خان زہری اور نسیمہ احسان جب کہ جے یو آئی ( ف) کے حافظ حمد اللہ، طلحہ محمود اور مفتی عبدالستار بھی ایوان بالا سے رخصت ہوگئے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے طاہر مشہدی، مولانا تنویر الحق تھانوی، نسرین جلیل، فروغ نسیم جبکہ مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا، سعید الحسن مندوخیل، روبینہ عرفان ،مشاہد حسین بھی ریٹائر ہونے والوں میں شامل ہیں،فاٹا سے آزاد امیدوار ہدایت اللہ، ہلال الرحمان، ملک نجم الحسن، صالح شاہ، پنجاب سے آزاد امیدوار محسن خان لغاری، فنکشنل لیگ کے مظفر حسین شاہ بھی ریٹائر ہو گئے،میاں رضا ربانی، فروغ نسیم ، ہدایت اللہ، ہلال الرحمان ، اسحاق ڈار، طلحہ محمود،روبینہ خالد، نزہت صادق آصف کرمانی، کامران مائیکل، اعظم سواتی، مظفر حسین شاہ اور مشاہد حسین سید بطور سینٹر اپنی مدت پوری کرنے کے بعد دوبارہ سینٹر منتخب ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ صادق سنجرانی نے 57 ووٹ حاصل کرنےکے بعد چئیرمین سینیٹ کی سیٹ پر کامیابی حاصل کی جس کے بعد انھوں نے حلف اٹھایا ۔حلف اٹھانے کے بعد باقاعدہ طور پر چئیرمین سینیٹ کی سیٹ پر بیٹھ گئے۔