ایف اے ٹی ایف میں بھارت کیخلاف کیس نہیں کھل سکتا تو پاکستان کیخلاف کیوں؟

ایف اے ٹی ایف میں بھارت کیخلاف کیس نہیں کھل سکتا تو پاکستان کیخلاف کیوں؟


اسلام آباد(24نیوز) ایف اے ٹی ایف میں بھارت کیخلاف کیس نہیں کھل سکتا تو پاکستان کیخلاف کیوں؟ پاکستان کیخلاف بھی بند کیا جائے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک کی زیرصدارت قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس ہوا،اجلاس میں پاک فوج کے شہداء کیلئے دعا اور بھرپور خراج تحسین اور بھارت کی مزمت کی گئی، سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان کیساتھ امتیازی برتاؤ پر فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کیخلاف مذمتی قراردا منظور کر لیا۔ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کیخلاف مذمتی قرارداد چئیرمین سینیٹر رحمان ملک نے پیش کی جسکو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا پاکستان کیساتھ امتیازی سلوک پر سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا بھارت کو رعایت دینے پر تخفظات ہیں۔فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس بھارت کو پاکستان پر ترجیح دے رہا ہے جو قابل مذمت ہے،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا بھارت کو ایشیا سربراہ بنانے پر سخت احتجاج کرتی ہے۔

ضرور پڑھیں:انکشاف15 جون 2016

انہوں نے کہا ہے کہ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس میں بھارت کیخلاف پہلے سے درخواست موجود ہے، فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس نے منی لانڈرنگ کی الزامات کی بنیاد پر پاکستان کیخلاف کیس کھلا ہے۔  فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس نے بھارت کیخلاف منی لانڈرنگ و ٹیرر فنانسنگ کے شواہد کے باوجود کیس کھلنے سے انکار کیا۔ حکومت پاکستان سے فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس سے امتیازی سلوک پر سخت احتجاج کرے۔  فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے صدر کو بھارت اور مودی کیخلاف تمام شواہد کیساتھ خط لکھا تھا۔ 

اگر مودی اور بھارت کیخلاف فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کیس نہیں کھل سکتا تو پاکستان کیخلاف کیوں؟  اگر بھارت کیخلاف کیس نہیں کھل سکتا تو پاکستان کیخلاف بھی کیس بند کیا جائے۔ کیا بھارت نے کلبوشن یادو کے ذریعے افغانستان و پاکستان میں ٹیرر فنانسنگ نہیں کر رہا ہے؟ ۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer