باغ اور باغی لڑکیاں

سید امجد حسین بخاری

باغ اور باغی لڑکیاں


گنگا چوٹی، لس ڈنہ اور حاجی پیر کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان پیالے کی شکل میں موجود وادی کو باغ کے نام سے جانا جاتاہے، جو آزاد کشمیر کا ایک ضلع بھی ہے۔گذشتہ روز ایک جانب لس ڈنہ اور گنگا چوٹی کو برف کی سفید چادر اپنی آغوش میں لے رہی تھی ، تو وہیں باغ میں رم جھم جاری تھی، لیکن اسی طوفان بادو باراں سے بے نیاز کچھ سرپھری لڑکیاں شدید بارش میں وائس چانسلر آفس کے باہر سراپا احتجاج تھیں ۔ یہ طالبات یونیورسٹی کے شعبہ کیمیا اور شعبہ ریاضی کی تھیں۔ جنہوں سٹاف کی کمی اور ریگولر کلاسز نہ ہونے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔طالبات کا کہنا تھا کہ ہماری یونیورسٹی کے 12 سے زائد اساتذہ سکالر شپ پر پی ایچ ڈی کرنے چلے گئے، لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے تاحال ان کی جگہ نئے اساتذہ کو تعینات نہیں کرسکی۔انتظامیہ کے اس عمل کے باعث جہاں طالبات کا ایک سمسٹر ضائع ہوا ہے، وہیں ہزاروں روپے فیس بھی یونیورسٹی انتظامیہ ہڑپ گئی ہے۔ احتجاجی طالبات کے مطابق اگلے ہفتے ایم فل اور ماسٹر ز کے فائنل پیپر ز ہیں ، لیکن ان کے اساتذہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بقایا جات نہ ملنے پر چلے گئے ہیں ، جبکہ پیپرز ناتجربہ کار افراد سے بنواکر ان کے مستقبل کیساتھ کھیل کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

طالبات کے احتجاج کے دوران ترجمان یونیورسٹی نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، جس کے بعد طالبات نے یونیورسٹی کے ترجمان کے دفتر اور گیٹ کو تالے لگا دیے۔طالبات کے مطابق احتجاج کے دوران غیر تدریسی سٹاف نے ان کے خلاف بے ہودہ زبان استعمال کی۔ جس کے باعث پرامن احتجاج پرتشدد ہوگیا۔ اس دوران کئی طالبات زخمی بھی ہوئیں۔جبکہ طالبات نے مقامی صحافیوں اور یونیورسٹی کے ترجمان کو یرغمال بنائے رکھا۔ جسے بعد ازاں مطالبات تین دن میں منظور کرنے کی یقین دہانی پر رہا کردیا گیا۔

یونیورسٹی ایریا میں احتجاج کے دوران ٹوٹے ہوئے گملوں سے محسوس ہورہا تھا کہ ان لڑکیوں کے سارے سپنے چکنا چور ہوگئے ہیں۔ بارش کی برستی بوندوں کے ساتھ ان کے ارمان بھی پانی میں بہہ گئے۔ لیکن رنگ برنگے دوپٹے سر پر پہنے حوا کی بیٹیاں یہ پیغام دے رہی تھیں کہ ان کے خواب الگ ہوسکتے ہیں ۔ لیکن منزل پر پہنچنے کی جستجو یکساں ہے۔معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے ، بظاہر جس طرح کا دکھائی دے رہا ہے۔ویمن یونیورسٹی باغ ماضی میں بھی خبروں میں رہی ہے۔ یہ خبریں یونیورسٹی کے اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کی نہیں بلکہ جامعہ میں مبینہ بے قاعدگیوں، کرپشن اور گڑبڑ گھوٹالے کی تھیں۔ایچ ای سی کے قاعدے کے مطابق کسی بھی ڈیپارٹمنٹ کو چلانے کیلئے اس میں ڈگری کی نوعیت کے اعتبار سے پی ایچ ڈی اساتذہ کو تعینات کرنا لازمی ہے۔ جس کے لئے ملک بھر سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کو یہاں تعینات کیا گیا۔ قانون کی رو سے اساتذہ کو ماہانہ ایک لاکھ سے زائد تنخواہ دی جانی تھی۔یونیورسٹی انتظامیہ نے مالی بحران کا بہانہ تراش کر پی ایچ ڈی اساتذہ کو رفتہ رفتہ تدریسی عمل سے بیدخل کرنے کی کوشش کی۔اب وائس چانسلر ڈاکٹر حلیم خان جو اعلیٰ حکومتی حلقوں کے منظور نظر ہیں۔ اپنی مدت ملازمت کے اختتام پر ان اساتذہ کا کنٹریکٹ بڑھانے کی بجائے ماسٹرز اور ایم فل ڈگری کے حامل نئے افراد کو بھرتی کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ وائس چانسلر نے اپنے افراد کو نوازنے کیلئے سینکٹروں طالبات کا مستقبل داو پر لگا دیا ہے۔

ضرور پڑھیں:انکشاف15 جون 2016

ویمن یونیورسٹی باغ آزاد کشمیر کی واحد خواتین یونیورسٹی ہے، جہاں ریاست بھر سے طالبات اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے کیلئے آتی ہیں۔ اقربا پروی، پرچی سسٹم اور رشوت نے جہاں پورے ملک کو جکڑ رکھا ہے۔ وہیں جامعہ کی طالبات بھی شدید متاثر ہورہی ہیں۔ گذشتہ روز ہونے والے احتجاج کے دوران احتجاجی طالبات سے گفتگو ہوئی۔ جن کا کہنا تھا کہ وہ کئی مشکلات جھیل کر اپنے خوابوں کو تعبیر کے رنگ دینے یونیورسٹی آئی ہیں۔ لیکن وائس چانسلر اور کی چہتی انتظامیہ نے ہمارا مستقبل داﺅ پر لگا دیا ہے۔ آزاد حکومت وائس چانسلر کیخلاف کوئی انکوائری نہیں کروائے گی۔ کیوں کہ رئیس الجامعہ کے اعلیٰ بیورو کریسی ، وزرا سمیت کئی اہم شخصیات کیساتھ تعلق ہے۔ انہوں نے ایچ ای سی اور دیگر وفاقی اداروں سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔